نوجوان کی ہلاکت اور طلبہ پر تشدد- پوری وادی سراپا احتجاج ،شہروگام ہمہ گیر ہڑتال احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں پارمپورہ میں مظاہرے کرنے پر دو نوجوان گرفتار- شوپیان میں مظاہرین کے خلاف شلنگ اور پیلٹ فائرنگ ہفتہ شرمال میں احتجاج کے دوران نوجوان کو گولی ماردی گئی

17 اپريل 2017

سرینگر/ نیازحسین / اے پی آئی /جے کے این ایس / بٹہ مالوں میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال سے وادی کے اطراف و اکناف میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ،بٹہ مالو علاقے میں انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ،پارمپور ہ سرینگر میں پولیس نے عام شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے 2نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ،شوپیاں میں نوجوانوں نے پولیس و فورسز پر سنگباری شروع کر دی جبکہ شہر خاص کے علاقوں میں انتظامیہ نے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لا کر حفاظت کے غیر معمولی اقداما ت عمل میں لائے تھے ،جبکہ حریت ﴿گ﴾ اور حریت ﴿ع﴾ کے چیئر مین کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا ۔ بٹہ مالوں میں بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ طور پر نوجوان کی ہلاکت اور ڈگری کالج پلوامہ میں پولیس وفورسز کی زیادتیوں /جاری صفحہ نمبر ۹پر
 کے خلاف مزاحمتی قائدین سعید علی شاہ گیلانی ،محمد یاسین ملک اور مولوی عمر فاروق کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال سے وادی کے طول و ارض میں زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ،بازار سنسان اور سڑکین ویران پڑی ہوئی تھیں ، انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے اور لوگوں کے جاں و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بٹہ مالوں میں اعلانیہ کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی تھی جبکہ شہر خاص کے 7پولیس اسٹیشنوں کرالہ کھڈ ، صفا کدل ،مہاراج گنج ،خانیار ،نوہٹہ، رعناواری،زڈی بل کے تحت آنے والے علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے ،لوگوں کے جاں و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ،جبکہ انتظامیہ نے حریت ﴿گ﴾ کے چیئر مین سعید علی شاہ گیلانی اور حریت ﴿ع﴾ کے چیئر مین مولوی عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کر دیا تھا ۔ادھر پارمپورہ سرینگر میں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف نوجوانوں کی ٹولیاں سڑک پر نکل آئیں اور انہوںنے احتجاجی مظاہرے شروع کئے ،پولیس و فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آو ر گیس کے گولے داغے اور تعاقب کے دوران سنگباری کرنے کے الزام میں 2نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میںلائیں ۔ادھر شوپیاں قصبے میں اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب کثیر تعداد میںنوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ہلاکت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا،اس دوران پولیس و فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے سنگباری شروع کر دی ۔ فریقین کے درمیان تصادم آرائیوں کاسلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔ادھرجنوبی کشمیر کے اچھن پلوامہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ پلیٹ چھروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے 18سالہ نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا اور اسے نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ خبر پھیلتے ہی اچھن پلوامہ میں لوگوں کی کثیر تعداد نے فورسز پر دھاوا بول کر اُن پر شدید پتھرا وکیا ۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اچھن پلوامہ کے نزدیک فورسز پر پتھراو کیا گیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کی گئی ۔ مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے ہف شرمال شوپیاں گائوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران کئی نوجوانوں نے فورسز کی موجودگی کے خلاف معمولی پتھراو بھی کیا ۔ نمائندے کے مطابق تلاشی آپریشن اختتام پذیر ہونے کے بعد جونہی پولیس وفورسز اہلکار اچھن پلوامہ کے نزدیک پہنچ گئے اس دوران نوجوانوں کی کثیر تعداد نے فورسز پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور پلیٹ چھروں کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ نمائند ے کے مطابق فورسز نے گولیاں بھی چلائیں جس کی وجہ سے 18سالہ نوجوان جس کی شناخت فیاض احمد شاہ ولد بشیر احمد شاہ کے بطور ہوئی ہے زخمی ہوا اور اسے ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا تاہم ابتدائی مرہم پٹی کے بعد اسے سرینگر ریفر کیا گیا ۔ اچھن پلوامہ میں فورسز کے ہاتھوں نوجوان زخمی ہونے کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران فورسز نے ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ اس ضمن میں جب دفاعی ذرائع کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوںنے اس بات کی تصدیق کی کہ اچھن پلوامہ کے نزدیک فورسز پر پتھراو کیا گیا اس دوران فورسز نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ہوامیں گولیوں کے کئی راونڈ فائر کئے ۔ اس دوران پولیس ترجمان نے واضح کردیا ہے کہ ہف شرمال شوپیاں میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران نوجوانوں نے فورسز پر شدید پتھراو کیا ۔ اس دوران چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں نے فروسز پر فائرنگ کی اور فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ پولیس ترجمان کے مطابق بعد میں پتہ چلا کہ ایک مقامی نوجوان کے کندھے میں گولی لگی ہے جسے علاج ومعالجہ کی خاطر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُس کی حالت مستحکم بتائی جار ہی ہے۔ پولیس ترجمان نے ہف شرمال شوپیاں میں پیش آئے واقعے پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے ہف شرمال شوپیاں گائوں کا محاصرہ کیا اس دوران لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے پتھراو کیا ۔ اس دوران چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی اور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ پولیس ترجمان کے مطابق کچھ دیر بعد معلوم ہوا ہے کہ وہاں پر ایک مقامی نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ نوجوان کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اُس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جار ہی ہے۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ نوجوان کو کس طرح سے گولی لگی ہے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کی گئی ہے۔

تبصرے