ڈاکٹر فاروق عبداللہ فاتح، پی ڈی پی اُمیدوار کو ہرایا- صدر ہند سے ریاست میں گورنر راج قائم کرنے کی اپیل کہا میں نے مستعفی ہونے کی بات کبھی نہیں کہی اور نہ میں ایسا کرنے والوں میں سے ہوں- ہندپاک اور کشمیری مزاحمتی قیادت سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کروں گا

16 اپريل 2017

سرینگر/ کے این ایس/ سابق مرکزی وزیرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے قریبی مدمقابل پی ڈی پی کے اُمیدوارنذیراحمدخان کوزائداز10ہزارووٹوں سے پچھاڑدیاجبکہ باقی 7اُمیدوار نوٹاکے حاصل کردہ ووٹو ں سے بھی پیچھے رہے ۔اُدھر3مرتبہ کے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق نے لگ بھگ 3سال بعدکسی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے فوراًبعدصدرہندسے جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذکرنے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیاکہ وہ مسئلہ کشمیرکاحل تلاش کرنے کیلئے ہندوپاک اورکشمیری مزاحمتی قیادت سمیت سبھی متعلقین کیساتھ بات چیت کاسلسلہ شروع کریں گے ۔جیت کے بعدمستعفی ہونے کی افواہوں کونکارتے/
 ہوئے ڈاکٹرفاروق نے کہامیں نے کبھی ایسانہیں کہااورنہ میں ایساکرنے والوں ہوں۔ 9اپریل کوبائیکاٹ کال کے سایے اور8عام شہریوں کی ہلاکت کے بیچ ہوئے سرینگرپارلیمانی نشست کیلئے ہوئی پولنگ اور13اپریل کو38پولنگ مراکزپرہوئی دوبارہ پولنگ کانتیجہ سنیچروارکوبعددوپہرسامنے آگیا۔سنیچرکی صبح ایس کے آئی سی سی میں ضمنی پارلیمانی چنائوکے تحت ڈالے گئے 7اعشاریہ2فیصدیعنی ایک لاکھ سے بھی کم ووٹوں کی گنتی کاعمل شروع کیاگیا ۔تین اضلاع پرمشتمل سرینگرپارلیمانی سیٹ کیلئے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کاعمل ڈیڑھ درجن سے زیادہ مراحل یارائونڈوس پرمحیط تھا۔1980اور2009میں اس نشست پرکامیابی حاصل کرچکے تین مرتبہ کے سابق وزیراعلیٰ اورسابق مرکزی وزیرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے ووٹ شماری کے پہلے رائونڈ سے ہی اپنے قریبی مدمقابل پی ڈی پی اُمیدوارنذیراحمدخان پربرتری حاصل کرنا شروع کیا،اوریہ سلسلہ آخری رائونڈتک جاری ہے ۔ا گرچہ یہاں کوئی خاص گہماگہمی نہیں تھی لیکن اسبات پرلوگوں کی توجہ ضرورمرکوزتھی کہ اس مرتبہ کون سرینگرپارلیمانی نشست پرجیت درج کرے گا۔ایک کے بعدایک رائونڈ کے تحت ووٹوں کی گنتی ہوتی رہی اورڈاکٹرفاروق کی حاصل کردہ برتری میں کبھی اضافہ توکبھی تھوڑی کمی آتی رہی تاہم کسی بھی مرحلے یاکسی بھی ایک رائونڈمیں نذیرخان کوبرتری حاصل نہیں ہوسکی ۔ووٹ شماری کے آخری کچھ رائونڈوں کے دوران لگاکہ شایدنذیاحمدخان اپنے مدمقابل کی برتری کوکم کرتے ہوئے آگے نکلیں گے لیکن ایسانہیں ہوسکابلکہ آخری کچھ رائونڈوں میں معمولی اتارچڑھائو ہی دیکھنے کوملا۔ بالآخر 16اور17ویں رائونڈکی ووٹ شماری کے دوران بھی جب ڈاکٹرفاروق کی برتری نہ صرف قائم رہی بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوتاچلاگیاتویہ بات واضح ہوگئی کہ تین مرتبہ کے سابق وزیراعلیٰ اوردومرتبہ کے سابق ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی سرینگرپارلیمانی نشست پرکامیابی کی ہیٹ ٹرک یقینی ہے ۔گرچہ ووٹوں کی تعدادبہت زیادہ نہیں بلکہ کل ووٹوں یعنی12لاکھ 61ہزار397میں سے صرف7اعشاریہ 2فیصدیعنی ایک لاکھ سے بھی کم ووٹوں 89ہزار865 کی گنتی کرناتھی لیکن ایک ایک ووٹ بڑی باریک بینی کیساتھ شمارکیاگیا،جن میں مہاجرپنڈتوں کی جانب سے جموں ،ادھم پوراورنئی دہلی میں قائم کردہ پولنگ مراکزپرڈالے گئے 974ووٹ بھی شامل تھے ۔خیال رہے ضمنی چنائو کے پہلے مرحلے میں سرینگرلوک سبھانشست کیلئے 9اپریل کوہوئی پولنگ کے اختتام پرریاست کے چیف الیکٹورل آفیسرشانت مانوکانامہ نگاروں کے سامنے کہناتھاکہ لگ بھگ 72ہزارمائیگرنٹ ووٹروں میں سے صرف971نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیاجبکہ کل ملاکراس نشست کیلئے6اعشاریہ5فیصدووٹنگ ہوئی ۔15اپریل بروزسنیچروارکوجب سری نگرپارلیمانی حلقہ کیلئے ڈالے گئے کل تقریباً90ہزارووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تومختلف مراحل میں کی گئی ووٹ شماری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مائیگرنٹ یامہاجرپنڈتوں نے بھی الیکشن بائیکاٹ کادانستہ یاغیردانستہ طورساتھ دیاہے کیونکہ مشینوں سے مہاجرپنڈتوں کے کل 974ووٹ ہی نکلے جوکہ ان کے کل ووٹوں مہاجرووٹوں کی صرف1.38فیصدکے لگ بھگ شرح بنتی ہے۔ ووٹ شماری کے سبھی رائونڈمکمل ہونے کے بعدیہ اعلان کیاگیاکہ نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق نے کل 48ہزار557ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ اُنکے قریبی مدمقابل پی ڈی پی کے نامزداُمیدوارنذیراحمدخان کوکل37ہزار779ووٹ ملے ہیں ۔اس طرح سے ڈاکٹرفاروق کونذیراحمدخان کے مقابلے میں 10ہزار775ووٹوں کے فرق سے کامیاب قراردیاگیا ۔معلوم ہواکہ باقی 7اُمیداروں کی ضمانت توضبط ہوگئی لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ سبھی نوٹاکے تحت ڈالے گئے کل ووٹوں سے بھی پیچھے رہے ۔ادھرنیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق نے لگ بھگ 3سال بعدکسی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے فوراًبعدصدرہندسے جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذکرنے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیاکہ وہ مسئلہ کشمیرکاحل تلاش کرنے کیلئے ہندوپاک اورکشمیری مزاحمتی قیادت سمیت سبھی متعلقین کیساتھ بات چیت کاسلسلہ شروع کریں گے ۔جیت کے بعدمستعفی ہونے کی افواہوں کونکارتے ہوئے ڈاکٹرفاروق نے کہامیں نے کبھی ایسانہیں کہااورنہ میں ایساکرنے والوں ہوں۔پارٹی ہیڈکوارٹرنوائے صبح کمپلیکس واقع نیوزیرئوبرج سرینگرمیںنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے ڈاکٹرفاروق نے جیت کے ماحول میں کہاکہ جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کوخطرے میں ڈالکرمجھے ووٹ دیامیں اُنکامشکورہوں ۔انہوں نے کہاکہ مخلوط سرکارضمنی چنائوکیلئے سازگارماحول بنانے اورمعقول سیکورٹی اقدامات اُٹھانے میں ناکام رہی ۔ڈاکٹرفاروق نے کہاکہ اب مخلوط سرکارکوبراسراقتداررہنے کاکوئی اخلاقی جوازنہیں ہے،اسلئے بقول فاروق عبداللہ میں صدرہندسے اپیل کرتاہوں کہ وہ اننت ناتگ پارلیمانی نشست کیلئے ہورہے ضمنی چنائو سے قبل ہی ریاست میں گورنرراج نافذکردیں ۔نومنتخب ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹرفاروق نے مسئلہ کشمیرکے حل کولازمی قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ اس مسئلے کاپُرامن حل تلاش کرنے کیلئے بھارت اورپاکستان کے علاوہ حریت قیاد د کیساتھ بھی بات کریں گے ۔ڈاکٹرفاروق کاکہناتھاکہ وہ مسئلہ کشمیرکاحل تلاش کرنے کیلئے ہندوپاک اورکشمیری مزاحمتی قیادت سمیت سبھی متعلقین کیساتھ بات چیت کاسلسلہ شروع کریں گے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں پڑوسیوں میں بات چیت کا عمل بحال کرنے کیلئے مجھ سے جنتا ہوگا میں کام کروں گا۔ اس کے علاوہ سبھی مکتبہ فکر کے لوگوں کا اتحاد کرانا میرا مشن ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری قوم اس وقت مصائب اور مشکلات کے دلدل میں مبتلا ہے ، ایسے میں آپسی اتحاد اور ہند و پاک مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ نوجوان کی پکڑ دھکڑ ، مارپیٹ، خوف و ہراس، توڑ پھوڑ اور چھاپہ مار کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔ فوجی جیپ پر نوجوان کو باندھ کر دیہات میں گھمانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ایسے اقدامات سے جمہوری نظام کیلئے بدنما داغ ہیں اور ایسے واقعات سے ایسی آگ لگ سکتی ہے ، جس پر کنٹرول پانا ناممکن ہے۔

تبصرے