سوشل میڈیا پر3دلخراش ویڈیو- فوجی گاڑی کے بمپر کیساتھ نوجوان کو باندھ کر اُسے انسانی ڈھال بنانے کے واقعے کی فوج نے تحقیقات شروع کردی ایک نوجوان کے سر کو نشانہ بناکر اُسے ابدی نیند سلانے کا واقعہ بھی زیرتحقیقات :ڈی جی پولیس

14 اپريل 2017 (08:07)

سرینگر کے این ایس ’’ہلاکت اورزیادتی سے متعلق 3تہلکہ خیزویڈیوز‘‘منظرعام پرآنے کے بعدپولیس نے دوواقعات سے متعلق کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی جبکہ ایک نوجوان کوفوجی جیپ کے بمپرکیساتھ باندھے جانے کے واقعے کی انکوائری فوج نے اپنے ذمے لی ۔ڈائریکٹرجنرل پولیس ڈاکٹرشیش پال یادئونے کہاکہ فورسزاہلکاروں کوستانے میں ملوث افراداورایک نوجوان کوگولی مارکرموت کی نیندسلادینے والے سیکورٹی اہلکارکیخلاف کیس درج کرلیاجبکہ فوج نے اُس ویڈیوکی انکوائری کااعلان کیاجس میں ایک نوجوان کوجیپ کے بمپرکیساتھ باندھ کرفوجی اہلکاروںکو مارچ کرتے دکھایاگیاہے ۔اُدھرسیاسی وعوامی حلقوں اورحقوق انسانی کارکنوں کی جانب سے تینوں واقعات کیخلاف سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ملوث فوجی اہلکاروں اورعام شہریوں کیخلاف بلاتفریق قانونی کارروائی کامطالبہ کیا۔ وسطی کشمیرمیں ضمنی پارلیمانی چنائو کے پہلے مرحلے میںپولنگ کے دوران9اپریل اوردوبارہ پولنگ کے دوران13اپریل کومشتعل نوجوانوں ،فوج اورفورسزکی جانب سے الگ الگ نوعیت کی حرکات کاارتکاب کیاگیا۔تینوں واقعات سے متعلق ویڈیوزسوشل میڈیاپرآجانے کے بعدتہلکہ مچ گیا،اورفٹ پاتھ سے لیکرنجی نیوزچینل کے کمرے تک ہرجگہ لوگوں نے تینوں واقعات اورحرکات سے متعلق اپنی رائے کااظہارکیا۔کچھ لوگوں نے ایسے ویڈیوز بھی شیئر کیے ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ طوروسطی کشمیر میں ضنمی انتخابات کے بعد کئی مقامات پر مقامی لوگوں نے سی آر پی ایف کے جوانوں کو محفوظ نکلنے میں مدد کی اور انھیں سنگ بازوں کی بھیڑ سے بچا لیا۔تاہم ایک ویڈیومیں دیکھاجاسکتاہے کہ کچھ مشتعل نوجوانوں نے الیکشن ڈیوٹی ختم ہونے کے بعدواپس جارہے کچھ سی آرپی ایف جاری صفحہ نمبر ۹پر  اہلکاروں کو ستانے کی کوشش کی تاہم ان کیساتھ ساتھ چل رہے کچھ نوجوانوں نے فورسزاہلکاروں کی حفاظت کرتے ہوئے باقی نوجوانوں کوانکے ساتھ کوئی براسلوک کرنے سے روکا۔اسی دوران ایک اورویڈیو بھی سوشل میڈیاپرشیئرکیاگیاجس میں فوج نے کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے بمپر پر باندھ کر مارچ کرتے دیکھاجاسکتاہے ۔اس ویڈیوسے لگتاہے کہ کسی علاقہ میں سنگباری ہورہی تھی ،اوراس دوران مبینہ طورفوجی اہلکاروں نے ایک نوجوان کوپکڑکراسکواپنی جیپ کے بمپرکیساتھ باندھ دیاتاکہ وہ سنگباری سے بچتے ہوئے وہاں سے نکل سکیں ۔پہلے عمر عبداللہ نے ٹویٹ کے ذریعے ویڈیو شیئر کی جس میں ایک نوجوان کشمیری شخص کو فوج کی جیپ کے بمپر پر بندھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔اس ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے بھی واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے سنگ بازوں کا یہی حال ہو گا۔ابھی ان دوویڈیوکی بازگشت جاری تھی کہ اس دوران کشمیر میں ایک اور نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں بعض لڑکے سی آر پی ایف پر پتھر بازی کر رہے ہوتے ہیں تو اسی دوران دوسری جانب سے فوجیوں کا ایک گروپ آتا ہے اور ایک لڑکے کے سر پر سیدھی گولی مارتا ہے۔ لڑکے کی وہیں اسی وقت ہی موت واقع ہو جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق پولیس حکام نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دئیے ہیں اور کہا کہ اگر ویڈیو کو صحیح پایا گیا تو فوج کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ تینوں ویڈیوزجلدہی عوامی وسیاسی حلقوں ،ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیامیں موضوع بحث بن گئے ،اورلوگو ں نے اپنے اپنے اندازمیں ان دیڈیوزپررائے زنی بھی کی ۔کچھ نجی نیوزچینلوں نے سی آرپی ایف اہلکاروں کیساتھ ہوئی زیادتی سے متعلق ویڈیوکی مناسبت سے خصوصی مباحثوں کااہتمام بھی کیاجبکہ اس دوران ان مباحثوں میں شامل افرادنے کشمیری نوجوانوں کے بارے میں کافی ذہربھی اُگل دیا۔سوشل میڈیاپربھی اس واقعے کولیکرخاصی بحث ہوئی جبکہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے ایک نوجوان کواپنی جیپ کے بمپرکیساتھ باندھے جانے کی ویڈیومنظرعام آنے کے بعدسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے الگ الگ ٹویٹ کرکے اپنے غم وغصے کااظہاربھی کیا۔انہوں نے سی آرپی ایف اہلکاروں کیساتھ زیادتی کے معاملے پرشورشرابہ کرنے والوں سے کہاکہ میں کشمیر میں سی آر پی ایف کے جوان کے ساتھ دھینگا مشتی پر مبنی ویڈیو سے پیدا ہونے والے غصے کو سمجھ سکتا ہوں لیکن میں اس بات سے پریشان ہوں کہ آرمی کی جیپ پر بندھے ہوئے کشمیری نوجوان کو دیکھ کر لوگوں کو اتنا ہی غصہ کیوں نہیں آتا؟۔ فوج نے اس واقعے کاخودنوٹس لیتے ہوئے انکوائری کے احکامات صادرکردئیے ۔دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے سرینگرمیں جاری کردہ بیان میں کہاکہ فوجی حکام نے ایک نوجوان کوفوجی جیپ کے سامنے بمپرکیساتھ باندھے جانے سے متعلق ویڈیوکی تحقیقات کے احکامات صادرکردئیے ہیں ،اوراس معاملے کی انکوائری شروع کردی گئی ہے۔اس دوران پولیس سربراہ ڈاکٹرشیش پال ویدنے اُن فورسزاہلکاروں کوشباشی دی جن کوایک ویڈیومیں کچھ مشتعل نوجوانوں کی جانب سے ستاتے اورپریشان کرتے دیکھاجاسکتاہے ۔ڈاکٹروید کاکہناتھاکہ فورسزاہلکاروں نے صبروتحمل سے کام لیاہے جوکہ قابل سراہناہے ۔انہوں نے کہاکہ اس ویڈیومیں دکھائے جارہے منظراوراس واقعے سے متعلق کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔انہوں نے مشتعل نوجوانوں کی چنگل میں پھنسے فورسزاہلکاروں کی سراہناکرتے ہوئے کہاکہ اگردنیاکی کوئی بھی فورس ہوتی تووہ اس حرکت پرسخت کارروائی سے کبھی گریزنہیں کرتی۔ڈی جی پی کاکہناتھاکہ ویڈیومیں دیکھے جارہے 11نوجوانوں کی شناخت کی جاچکی ہے اوربہت جلداُنھیں گرفتارکیاجائیگا۔ریاستی پولیس کے سربراہ نے کہاکہ اُس واقعے کی تحقیقات بھی شروع کی گئی ہے جس میں ایک فوجیوں کا ایک گروپ آتا ہے اور ایک لڑکے کے سر پر سیدھی گولی مارتا ہے۔ لڑکے کی وہیں اسی وقت ہی موت واقع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس واقعے سے متعلق کیس بھی درج کیاگیاہے اورتحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

تبصرے