پونچھ سیکٹر میںجھڑپیں، جنگی ہتھیاروںکا استعمال- ایک خاتون سمیت متعدد افراد زخمی، رہائشی عمارتوں کو نقصان، کئی کنبے ترک سکونت کرگئے، تعلیمی ادارے احتیاطی طور بند

14 مارچ 2017

جموں/ جموں کے پونچھ سیکٹر میں بھارت اور پاکستانی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران بھاری ہتھیاروںکا استعمال کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چکنداں باغ ،کرشنا گھاٹی،عباس پورہ ،ککواٹ اور بگوار سیکٹروں میں ہند پاک افواج نے ایک دوسرے کیخلاف جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔طرفین کے مابین گزشتہ 24گھنٹوں سے وقفے وقفے جاری گولہ باری اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ آرپار کئی دیہات میں درجنوں رہائشی مکانات ودیگرعمارات کو بھی نقصان پہنچا اورسینکڑوں لوگ ترک سکو نت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ادھر’ راہ ِ ملن بس سروس‘ معطل کردی گئی جبکہ پونچھ کے متعدد دیہات میں تعلیمی اداروں کو احتیاط کے بطور بند کردیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ آر پار گولہ باری سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثنائ دونوں ممالک نے حسب معمول ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدہ2003کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ گزشتہ24گھنٹوں سے وقفے وقفے سے شدید نوعیت کی گولہ باری جاری ہے۔اتوار کی شب سے سرحدی ضلع پونچھ میں حد متارکہ پر شروع ہونے والی گولہ باری کی وجہ سے پورے علاقہ میں دہشت پھیل گئی ہے اوریہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔ جنگ بندی معاہدہ کی تازہ ترین خلاف ورزیوں کے دو واقعات کنٹرول لائن پر رونما ہوئے۔پونچھ میں چکنداں باغ ،کرشنا گھاٹی اور بگوار سیکٹروں میں پیر کوبھارتی اور پاکستانی افواج کے درمیان چھوٹے بڑے اسلحہ کی گولہ باری اور ماٹر شلوں کا تبادلہ ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ فوج نے اسے گزشتہ24گھنٹوں کے دوران پاکستان کی طرف سے فا ئر بندی معاہدہ کی دوسری خلاف ورزی قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ اس بلا اشتعال گولہ باری کو موثر جواب دیا گیا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق ا بھی تک کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق طرفین کے مابین شدید گولہ باری کا تبالہ پیر کی صبح6بجکر30پر شروع ہوا جو وقفے وقفے سے جاری تھا ۔ طرفین کے درمیان زبردست گولہ باری ہو ئی جس میں بھاری مشین گنوں سے بھی فائرنگ کی گئی اور ماٹر شلنگ بھی ہوئی ، جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں جنگ کا سا سماں پیدا ہو گیا۔ اس فائرنگ سے چکنداں باغ ،کرشنا گھاٹی اور بگوار علا قوں میں /
زبر دست خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ اپنے گھروں سے بھاگ گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا انہوں نے اس سیکٹر میں پہلی بار اس طرح کی زبر دست فائرنگ دیکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز کے بعد کچھ گھنٹے تک زور دار دھماکے بھی ہوتے رہے اور انہیں خوف محسوس ہوا کہ ہند۔ پاک فوجوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ ساڑھے6بجے کے قریب پاکستانی رینجروں نے چکنداں باغ اور بگوار سیکٹروں میں بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی فائرنگ کی ماٹر شل داغے جس کا جواب بھارتی فوج نے برابر دیا ۔ان کا کہناتھا کہ اس گولہ باری کے تبادلے میں کسی طرح جانی ومالی نقصان نہیں ہوا ۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گولہ باری کے تبادلہ کے نتیجے میں کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا اور لوگ ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستانی رینجروں نے82ایم ایم ماٹر شلوں بھی داغے ۔اس قبل اتوار کو کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوا جو رات دیر گئے تک وقفے وقفے سے جاری تھا۔ ادھر پاکستانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شری کوٹ سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کردی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے شری کوٹ سیکٹر میں مقامی آبادی کو نشانہ بنایا۔پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں گاوَں چفہ کا رہائشی 60 سالہ بزرگ اور ایک15 سالہ لڑکی زخمی ہوگئی جنہیں طبی امداد کیلئے عباس پور سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا ا۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ 9 مارچ کو بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی خاتون زخمی ہوگئیں تھیں۔ان کا کہناتھا کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 فروری کو بھی پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع کوٹلی میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے4 خواتین زخمی ہوئی تھیں۔ان کا کہناتھا کہ14 فروری کو بھی لائن آف کنٹرول پر تھوب سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 3پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔دریں اثنائ ہند پاک افواج کے درمیان حد متارکہ جاری گولہ باری کے نتیجے میں کراس ایل او سی ۔بس سروس کو معطل کردیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ احتیاط کے بطور راہِ امن بس سروس جو کہ پونچھ اور رائولا کوٹ کو دوپہر2بجے تک معطل کردیا گیا ۔حکام کے مطابق متعدد ماٹر شل ٹریڈ سہولیت سینٹر چکنداں باغ پونچھ پر بھی گر آئے ۔حکام نے بتایا کہ یہاں تعینات ملازمین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ۔دریں اثنائ پونچھ کے کئی سرحدی دیہات میں جن میں اجوت وغیرہ شامل ہے ،میں تمام تعلیمی اداروں کو احتیاط کے بطور بند کردیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پونچھ میں سیکٹر میں شدید نوعیت کی گولہ باری کے نتیجے میں صورتحال دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب از خود رخ کررہے ہیں جبکہ کئی دیہات میں حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔یاد رہے کہ2003میں ہند پاک حکام کے درمیان جنگ بندی سے متعلق ایک معاہدہ ہوا ،تاہم اب تک اس معاہدے کی دونوں اطراف سے خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور دونوں ممالک ایکدوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کی وجہ سے دونوں اطراف جہاں فوجیوں کو جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ،وہیں عام لوگوں کو جانی ومالی بھاری نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا ما ننا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے سبب جموں وکشمیر کے عوام بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں ۔ان کہناہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن رہتا ہے ،تو اس کا فائدہ جموں وکشمیر کے عوام کو ہی ملے گا ۔

تبصرے