38میں سے 27پولنگ مراکز پر ایک بھی ووٹر نے ووٹ نہیں ڈالا- بڈگام میں ری پولنگ کا عمل ، ’’فلاپ شو ‘‘ ثابت ہوا-35169ووٹوں میں سے صرف 709ووٹ ڈالے گئے ،ووٹنگ کی شرح 2فیصد ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ ووٹ ڈونی وارہ میں ڈالے گئے جہاں 243ووٹروں نے اپنے ووٹ استعمال کئے  

14 اپريل 2017

سرینگر/ کے این ایس/’’ ضمنی چنائوکادوبارہ عمل بھی فلاپ شوثابت ‘‘ہواکیونکہ 38میں سے27پولنگ مراکزمیں ایک بھی ووٹرنے اپناووٹ نہیں ڈالا۔ضلع بڈگام کے4تحاصیل کے تحت آنے والے علاقوں میں کل 35ہزار169رائے دہندگان میں سے محض 709نے اپنی حق رائے دہی کااستعمال کیا،اوراس طرح سے9گھنٹوں کی پولنگ کے آخر میں شرح ووٹنگ صرف 2فیصدریکارڈکی گئی ۔سب سے زیادہ ووٹ ڈونی واری پولنگ مرکز میں پڑے جہاں 243رائے دہندگان نے ووٹ ڈال کر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔اس دوران سیکورٹی وجوہات کی بنائ پر2پولنگ مراکز﴿ نصر اللہ بی اور سی ﴾ کو ٹنکی پورہ منتقل کیا گیا ۔خیال رہے9اپریل کی ہلاکت خیزی کے پیش نظردوبارہ پولنگ کیلئے چاڈورہ ،چرارشریف ،خانصاحب اوربیروہ میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ،اورکسی بھی صورتحال سے فوری طورنمٹنے کیلئے پولیس اورفورسزکیساتھ ساتھ فوجی اہلکاروں کوبھی سریع الحرکت رکھاگیاتھا۔یاد رہے کہ 9اپریل کو اس حلقے میں پولنگ عمل کے دوران فورسز کی فائرنگ سے بڈگام اور گاندر بل میں8نوجوانوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ200سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے ۔ سرینگر پارلیمانی حلقہ کے38پولنگ مراکز پر جمعرات کو دوبارہ ووٹنگ ہوئی ۔الیکشن کمین آف انڈیا کے مطابق سرینگرپارلیمانی نشست کے ضمنی چنائو کیلئے ضلع بڈگام کے جن 38پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ ہوئی،ان میں چاڈورہ اسمبلی حلقے انتخاب کے بوگام بٹہ پورہ ﴿ بی﴾ ۔31،بوگام بٹہ پورہ ﴿بی﴾۔32،نوبُگ ۔33، چک مہند جو دھر ۔39، واتھورہ ﴿بی﴾۔52، زولوا۔34، گوپال پورہ ﴿اے﴾۔55،گوپال پورہ ﴿بی﴾ ۔ 56،ڈونی واری۔57، کرالہ پورہ ﴿اے﴾۔60، کرالہ پورہ ﴿بی﴾۔ 61،کرالہ پورہ ﴿ڈی﴾۔63،دھرم بُگ ﴿اے﴾ ۔ 65، دھرم بُگ ﴿بی﴾۔66، باغ ماہتاب ﴿بی﴾۔87،دھرم بُگ ﴿سی﴾۔98۔بڈگام اسمبلی حلقے انتخاب کے نصراللہ پورہ ﴿بی﴾۔22، نصراللہ پورہ ﴿سی﴾۔23، گلوان پورہ ﴿اے﴾ ۔28، ہاری پورہ ۔30، وارہ سنگم ۔32، سویہ بُگ ﴿ایچ﴾۔40، پتلی باغ ۔107، گلوان ﴿بی﴾۔120۔بیروہ اسمبلی حلقے انتخاب کے کانہامہ ۔15، بدرَن﴿ بی﴾ ۔29، پیرپورہ ۔34، سہہ پورہ ۔89، گنڈی پورہ ﴿اے﴾94۔ خانصاحب اسمبلی حلقے انتخاب کے کنڈورہ ﴿بی﴾ ۔79۔چرارِ شریف اسمبلی حلقے انتخاب کے ریہ پورہ ۔7، گوپال سیف﴿اے﴾ ۔9، نو پورہ ۔16، چرارشریف ﴿ ایم ﴾ ۔38، کانِر﴿ اے ﴾ ۔ 86، کانر ﴿ بی﴾ ۔ 87، ہُشرو۔90 ، واگام ۔91شامل ہے ۔پولنگ کے مراکز اورمقامات پہلے سے طے شدہ اعلان کے تحت ہی رہیں ۔پولنگ کا عمل صبح 7بجے شروع ہوا اور شام4بجے اختتام پذیر ہے۔9گھنٹوں کی پولنگ کے دوران 38پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹ ڈالے گئے اورشام4بجے یہ عمل اختتام پذیر ہوا ۔38پولنگ مراکز پر کل ملا کر2فیصد رائے دہنگان نے اپنی رائے کا اظہار کرکے سیاسی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ووٹنگ مشینوں میں قید کیا ۔38پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ کیلئے ضلع بڈگام میں فقید المثال سیکورٹی بندوبست کئے گئے ۔/جاری صفحہ نمبر ۷پر
20اضافی فورسز کمپنیوں کو پولنگ عمل کیلئے تعینات کیا گیا جبکہ فوج کی بھی خدمات حاصل کی گئی ۔صورتحال پر نظر گزر رکھنے کیلئے خصوصی نگراں فورسز کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔اس مقصد کیلئے پولنگ مراکز کے باہر اور اندر چپے چپے پر فورسز اہلکار تعینات کئے گئے جبکہ پولنگ عمل میں کے دوران حساس ترین علاقوں میں دن بھر سیکورٹی فورسز گاڑیاں گشت کرتی رہیں ۔ 38پولنگ مراکز کو دوبارہ پولنگ کے پیش نظر سخت ترن سیکورٹی حصار میں رکھا گیا جبکہ انتہائی سیکورٹی بندوبست میں پولنگ عملے کو پولنگ مراکز تک پہنچا یا گیا ۔سخت ترین سیکورٹی حصار میں دن بھر جاری رہنے والے دوبارہ پولنگ عمل کے دوران صرف2فیصد رائے دہندگان نے ہی اپنی رائے کا اظہار کیا ۔حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ عمل پر امن طور پر اختتام پذیر ہوا ۔ان کا کہناتھا کہ 38پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹنگ کیلئے35ہزار169رائے دہندگان کو مجموعی طور اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا ،لیکن صرف709رائے دہند گان جن میں بیشتر خواتین ووٹر ٹھیں ،نے ہی اپنی رائے کا اظہار کیا ۔38پولنگ مراکز میں سے بیشتر پولنگ مراکز پر الو بولتے رہے اور یہاں دن بھر پولنگ عملہ کرسیوں پر اونگ رہے تھے ۔گونڈی پورہ پولنگ مرکز جہاں پر9اپریل کو ہوئی پولنگ کے دوران 760رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے تھے ،لیکن دوبارہ پولنگ کے دوران 1بجکر30منٹ تک کسی نے بھی ووٹ نہیں ڈالا ۔ گو نڈی پورہ گائوں بیروہ حلقہ انتخاب میں واقع ہے ۔1500رجسٹرڈ رائے دہندگان میں سے9اپر یل کو ہوئی ووٹنگ کے دوران670رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے تھے ۔باغ مہتاب میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کوملی ۔یہاں کسی رائے دہندہ نے ووٹ نہیں ڈالا ۔سہ پہر 3بجے تک یہاں قائم پولنگ مرکز پر کسی نے بھی ووٹ نہیں دالا تھا ۔بڈگام میں 2بجے تک3ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جبکہ خانصاحب میں کسی نے بھی ووٹ نہیں ڈالا ۔پولنگ عمل کے دوران ووٹنگ زدہ علاقوں میں دفعہ144بھی نافذ رہا ۔سب سے زیادہ ووٹ ڈونی واری حلقہ انتخاب چاڈورہ میں پڑے ۔یہاں 1247ووٹروں میں سے دو پہر1بجے تک 243ووٹ پڑے تھے ۔یہ حلقہ انتخاب نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر اور قانو ن ساز کونسل ممبر علی محمد ڈار کے آبائی علاقہ میں واقع ہے ۔9اپریل کو ہوئی ووٹنگ کے دوران یہاں 670ووٹ ڈالے گئے تھے ۔38پولنگ مراکز میں سے 2پولنگ مراکز کو دوسری جگہ منتقل بھی کیا گیا ۔نصر اللہ بی اور سی پولنگ مراکز کو ٹنکی پورہ منتقل کیا گیا ۔الیکشن اتھارٹی نے یہاں گڑھ بڑھ ہونے کے پیش نظر ان پولنگ مراکز کو دوسری جگہ منتقل کیا ۔ہڑتال اور بائیکاٹ کال کے بیچ 0.99فیصد ووٹروں نے پہلے تین گھنٹوں کے دوران اپنی رائے کا اظہار کیا تھا ۔7106رائے دہندگان میں سے نصر اللہ ﴿بی﴾ میں 2ووٹ اور نصراللہ﴿سی﴾ میں ایک ووٹ ڈالا گیا تھا ،دوپہر دو بجے تک ۔دوپہر 12بجے تک38پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹنگ کی شرح1.36فیصد ریکارڈ کی گئی تھی ۔پولنگ عمل کے دوران بڈگام میں ہلاکت خیز واقعات کے چا ر روز بعد ہوئی دوبارہ پولنگ کے دوران جمعرات کو پہلے4گھنٹوں کے دوران467رائے دہندگان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔گلوان پورہ کے ساتھ دیگر کئی پولنگ مر اکز پر مکمل طور پر بائیکاٹ رہا ۔ اس دوران دوبارہ پولنگ زدہ علاقوں کے ساتھ بڈگام ضلع میں مکمل ہڑتال رہی ،جسکی وجہ سے یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو ملا ۔پولنگ عمل کے دوران متعدد مقا مات پر بائیکاٹ کے حق میں احتجاج بھی ہوا ۔جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے آبائی علاقہ سویہ بگ میں نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا ،جس دوران فورسز نے ان کا تعا قب کرکے منتشر کیا۔یاد رہے کہ پارلیمانی حلقہ میں 9اپریل کو سرینگر نشست کیلئے ووٹ ڈالے گئے ،جس دوران بڈگام میں پر تشدد واقعات رونما ہوئے اور سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے یہاں 7نوجوان جبکہ ضلع گاندر بل کے باروسہ علاقے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا تھا ۔چیف ایلکٹورل افسر شانت منو کے مطابق 7.4فیصد رائے دہندگان نے سرینگر نشست کیلئے اپنی رائے کا اظہارکیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ تشدد کی وجہ سے پولنگ بری طرح سے متاثر ہوا اور افسران کی جانب سے ملنے والی جانکاری کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ سرینگر پارلیمانی حلقہ کے38پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی ۔ہلاکتوں کے 4روز بعد کی تاریخ دوبارہ ووٹنگ کیلئے مقرر کی گئی اور مجموعی طور پر 2فیصد رائے دہندگان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔یاد رہے کہ8نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد اننت ناگ نشست کیلئے12اپریل ڈالے جانے والے ووٹنگ عمل کو ملتوی کرکے 25مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ۔الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پی ڈی پی امیدوار مفتی تصدق کی جانب سے مانگ کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا ۔تاہم کانگریس اور این سی کے مشترکہ امیدوار غلام احمد میر نے اس فیصلے کو یکرفہ قرار دیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر ریاست میں گور نر راج نافذ نہیں ہوتا ،تو وہ پارلیمانی انتخابی عمل سے دوری اختیار کریں گے ۔انہوں نے ہلاکتوں کیلئے ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا یا تھا ۔

تبصرے