دبئی میں ٹریک ٹو سطح پر ہندپاک مذاکرات - دونوں ملکوں کے قانون سازوں اور سابق سفارت کاروں نے کشمیری لیڈر شپ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے پر زوردیا- واگہ سرحد پر پرچم کشائی پر رقابت کے مناظر کو بد صورتی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیاگیا

12 مارچ 2017 (06:17)

نئی دہلی دبئی میں پاک بھارت قانون سازوں ، سرکاری حکام اور سابق فوجی آفیسران کے درمیان میٹنگ ہوئی جس دوران دونوں ممالک کے ممبران پارلیمنٹ نے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے دونوں ممالک بات چیت کا سلسلہ شروع کریں تاکہ خطے میں امن و امان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ادھر الیکشن نتائج کے ساتھ ہی نئی دہلی اور اسلام آباد میں سابق سفارتکار اور ٹریک ٹو ڈپلومیٹ سرگرم ہو گئے ہیں اور بات چیت کیلئے سازگار ماحول بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کشمیری لیڈر شپ کو بات چیت میں شامل کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں وزیر اعظم ہند کے ساتھ بات کی ہے۔ دبئی میں پاک بھارت قانون سازوں اور سرکاری حکام کے درمیان ہونے مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق دونوںممالک کے قانون سازوں نے کشیدگی ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ بات چیت کے ذریعے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ، خطے میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے دونوں ملکوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران کئی مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی اور ممبران نے زور دیا کہ دونوںملکوں کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا جائے ۔ میٹنگ کے دوران پاکستان اور بھارت کے قانون سازوں اور سرکاری حکام نے واہگہ بارڈر اور اٹاری بارڈر پر تقریب پرچم کشائی پرشدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک کے کچھ ارکان نے اسے بدصورت اور بیہودہ قرار دیا ہے۔کانگریس کے سینئر رکن مانی شنکر آئر کا کہنا ہے کہ یہ تقریب بدصورت ہے، جب کہ رکن سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ اس کے خلاف قرار داد پچھلے مذاکرات کے دوران بھی منظور ہوئی تھی۔تفصیلات کے مطابق،1959 سے اب تک پاکستان رینجرز اور بارڈر سیکوریٹی فورس﴿بی ایس ایف﴾مشترکہ طور پر روزانہ سرحدوں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کرتی ہیں، جس میں جارحانہ انداز میں پریڈ کی جاتی ہے۔یہ بات پلڈاٹ کے تعاون سے پاک۔بھارت قانون سازوں اور سرکاری حکام کے درمیان دبئی میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر زیر بحث آئی۔ان مذاکرات میں پاکستان اور بھار ت کے ارکان پارلیمنٹ، مختلف بھارتی ریاستوں کے قانون ساز، پاکستان کے سندھ اور پنجاب اسمبلیوں کے ارکان ، ماہرین اور میڈیا نمائندگان شریک تھے۔مذاکرات کے اعلامیہ کے بعد دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے ایم ایل اے ایڈوکیٹ مدن لعل، جن کا تعلق عام آدمی پارٹی سے ہے انہوں نے پاک۔بھارت قانون سازوں سے درخواست کی کہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب کو ختم کردینا چاہیئے۔انہوں نے اداس لہجے میں کہا کہ یہ موذوں نہیں ہے۔ان کی اس درخواست پر جواب دیتے ہوئے سابقہ بھارتی وزیر اور کانگریس کے سینئر رکن مانی شنکر آئرنے ازراہ تفنن کہا کہ مجھے بھارت کا وزیر اعظم بنادو، میں یہ عمل رکوادوں گا۔تاہم انہوں نے سنجیدہ انداز میں کہا کہ’’سرحدوں پر پرچم کشائی کی تقریب بدصورت ہے، اسے فوری ختم ہونا چاہیئے‘‘۔پاکستان سے سندھ اسمبلی کے مہتاب اکبر راشدی نے بھی اس تقریب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کے خلاف قرار داد پچھلے پاک۔بھارت مذاکرات کے  دوران بھی منظور ہوئی تھی۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ الیکشن نتائج کے ساتھ ہی پاک بھارت سابق سفارتکار مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے متحرک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اگر چہ سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم سرکاری سطح پر بات چیت شروع کرنے کے ضمن میں دونوںممالک سرگرم ہو گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مذاکرات سے قبل کشمیری لیڈر شپ کو اعتماد میں لینے کیلئے بھی تک دو شروع کی گئی ہے آنے والے ایک دو ہفتو ں میں اس سلسلے میں پیش رفتہ ہونے کو ذرائع نے خارج ا زامکان قرار نہیں دیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ چونکہ ریاستی حکومت خاص کر خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکز پر زور دیا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ فوری طورپر شروع کرنا چاہئے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے آنے والے دن غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

تبصرے