اُتر پردیش میں بی جے پی اور پنجاب میں کانگریس کی فتح- اُتراکھنڈ میں بھاجپا کی حکومت سازی یقینی، گوا میں کانگریس اور بی جے پی برسر اقتدار آنے کیلئے کوشاں،منی پور میں معلق اسمبلی,

11 مارچ 2017 (06:16)

سرینگر مانٹرنگ اُترپردیش اسمبلی انتخابات میں ’مودی کی آندھی ‘نے تمام انتخابی اندازوں اور تخمینوں کو ہوا میں اُڑاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾نے تین چوتھائی اکثریت حاصل کرکے ریاست میں نئی تاریخ رقم کی۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ کو دو ریاستوں میں واضح برتری حاصل ہوئی ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعت کانگریس پنجاب اور گوا میں سبقت لے جانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کل سامنے آنے والے نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اُترپردیش میں بی جے پی کو 403 میں سے 324 پر کامیابی حاصل ہوچکی ہے، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 276نشستیں زیادہ ہیں جبکہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی اتحاد کو 197نشستوں کا نقصان ہوا ہے جس نے صرف 57نشستیں حاصل کی ہیں۔ بہوجن سماج وادی پارٹی کو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 61سیٹیں کم حاصل ہوئی ہیں جس نے صرف 19نشستیں حاصل کی ہیں۔ پنجاب اسمبلی انتخابات کے نتائج میں117 سیٹوںمیں سے کانگریس کو 77نشستیں حاصل ہوچکی ہیںجس پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 31سیٹیں زیادہ ہیں۔ عام آدمی پارٹی 22نشستیں حاصل کرکے پہلی بار کھاتہ کھولنے میںکامیابی ہوچکی ہیں۔ اکالی دل کو صرف 18نشستیں حاصل ہوچکی ہیں جس نے پچھلے انتخابات میں 68نشستیں حاصل کی تھیں۔ 40نشستوں والی ریاست گواکے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں کانگریس کو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 9نشستوں کا اضافہ ہوا ہے جس نے 18سیٹیں حاصل کی ہیں۔بی جے پی نے 14نشستیں حاصل کی ہیں جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 9کم ہیں۔ اُترا کھنڈ میں بی جے پی نے اس بار 57سیٹیں حاصل کی ہیں۔ 70سیٹوں والی ریاست میں پارٹی نے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 26سیٹیں حاصل کی ہیں۔کانگریس پارٹی کو یہاں صرف 11سیٹیں ملی ہیں جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 21سیٹیں کم ہیں۔بی ایس پی کو کوئی نشست حاصل نہیں ہوئی ہے۔منی پور انتخابات میں کانگریس کو 27اور بی جے پی کو22سیٹیں حاصل ہوچکی ہیں۔ ان انتخابات کو 2014ئ میں بننے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک امتحان اور وزیراعظم مودی کی پالیسیوں سے متعلق ریفرنڈم تصور کیا جا رہا تھا۔ مبصرین یہ کہتے آ رہے تھے کہ اگر بی جی پی یہ انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا سہرا وزیراعظم مودی اور انتخابی منصوبہ بندی کے لیے ان کے معاون امیت شاہ کے سر جائے گا جنہوں نے تقریباً دو ماہ تک بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ دوسری صورت میں انہیں اپنی جماعت کے لیے بعض سینئر راہنماؤں کی طرف سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق ذات پات اور مذہب میں منقسم ریاست اترپردیش میں وعدے اہمیت کے حامل ہیں۔ اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی کی رہنما مایاوتی نے ایک پریس کانفرنس میں ووٹنگ کے دوران مشینوں کی خرابی کا الزام لگاتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پہلے انہیں یقین نہیں آیا تھا لیکن اس بار کے نتائج کو دیکھ کر وہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ ووٹنگ مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ تاہم الیکشن کمشنر نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی کی پارٹی بی جے پی نے یو پی میں سماج وادی پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کی زیرِ قیادت بہوجن سماج پارٹی کے خلاف زبردست انتخابی مہم چلائی تھی۔,

تبصرے