شہری ہلاکتوں کیخلاف لوگوں میں شدید غم وغصہ- دو روزہ ہڑتال کے پہلے روز دکانیں کاروباری ادارے ، بنک ، دفاتر بند، ٹرانسپورٹ اور ریل سروس معطل متعددمقامات پر جھڑپیں، شوپیاں اور اسلام آباد میں دو پولنگ مراکز نذرآتش

11 اپريل 2017

سرینگر/ عازم جان/ بشیرسمبلی / نیازحسین /کے این ایس/تازہ شہر ی ہلاکتوں پر وادی سوگوار اور فضائ غمناک ‘رہنے کے بیچ یوم سیاہ کے موقع پر 2روزہ تعزیتی واحتجاجی ہڑتال کے نتیجے میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔اس دوران بڈگام ،گاندربل اور سرینگر کے بعض علاقو ں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کرفیو جیسی پابندیاں اوربندشیں عائد کی گئیں اور پولیس وفورسز اہلکاروں کی تعیناتی چپے چپے پر عمل میں لائی گئی، جس دوران کئی علاقوں میں مشتعل نوجوانوں اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں بھی ہوئیں ۔اِدھرکشیدگی اور تنائو کی لہر جنوبی کشمیرتک پہنچ گئی ،جس دوران ضلع شوپیان میں ایک پولنگ مرکز کو نذر آتش کیا گیا جبکہ کولگام میں نوجوانوں کی گرفتاری پر تشدد بھڑک اٹھا ۔دریں اثنا ئ مزاحمتی لیڈران کی تھانہ وخانہ نظر بندی برقرار ہے ۔ جمہوریت کیلئے یوم سیاہ کے موقع پراتوار کو پولنگ عمل کے دوران بڈگام اور گاندر بل میں فورسز کے ہاتھوں8نوجوان کی ہلاکت پر پوری وادی سوگوار اور فضائیں غمناک رہیں۔اس دوران مزاحمتی قائدین کی جانب سے دو روزہ تعزیتی واحتجاجی ہڑتال کے پہلے روز سوموار کو وادی کے طول وعرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں سوموار کو ہر طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے ،تجارتی مرکز ،بازار ،پیٹرول پمپ ،سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے ۔/جاری صفحہ نمبر ۷ پر
سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا جس کے نتیجے میں ہر سو ہو کاعالم رہا ۔ہڑتال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بارہمولہ ۔بانہال ریل سروس بھی معطل رکھی گئی ۔ہڑتال کے باعث وادی کشمیر میں سڑکیں اور بازار سنسان و ویران نظر آرہے تھے ۔وادی کشمیر کی تمام عدالتوں میں بھی معمول کا کام کاج متاثر رہا ۔اس دوران ممکنہ شہری ہلاکتوں پر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر وادی بھر میں سیکورٹی بندوبست سخت کئے گئے،جس دوران ہزاروں کی تعداد میں پولیس وفورسز اہلکاروں کو چپے چپے پر تعینات کیا گیا ۔شہر خاص کے نوہٹہ ،خانیار ،مہاراج گنج ،صفاکدل پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں حکم امتناعی نافذ رہا ۔ان پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد رہیں جبکہ شہر خاص کے حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی ۔ادھر سیول لائنز کے حساس علاقہ مائسمہ میں بھی بند شیں عائد رہیں ۔اس دوران ضلع بڈگام اور گاندربل میں شہری ہلاکتوں پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں ۔درجنوں علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا جبکہ ان دونوں اضلاع میں بھی اضافی سیکرٹی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امن وقانون کی صورتحال پرامن رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ۔اس دوران نٹی پورہ میں پتھرائو کا واقعہ رونما ہو ا ،جس دوران نوجوانوں نے مشتعل ہو کر یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر خشت باری کی ،جوابی کارروائی کے دوران فورسز ٹیر گیس شلنگ کی ۔یہاں جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا ۔تاہم کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس سری نگر کے دیگر کئی علاقوں سے بھی پتھرائو کے واقعات رونما ہوئے ۔اس دوران وسطی کشمیر کی کشیدگی وتنائو کی لہر جنوبی کشمیر تک پھیل گئی ،جس دوران شوپیان میں 9اور10کی درمیانی رات کو نامعلوم افراد نے ایک پولنگ مرکز کو نذر آتش کیا ۔اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق اب جبکہ پارلیمانی ضمنی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں توجہ جنوبی کشمیر کی طرف مبذول ہورہی ہے اور یہاں کشیدگی اور تنائو کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔12اپریل بروز بدھ کو ممکنہ طور پر پارلیمانی نشست پر ووٹنگ ہونے جارہی ہے ۔یہ نشست 4اضلاع پر محیط ہے ،تاہم وسطی کشمیر کی نشست پر اتوار کو ہوئی پولنگ کے دوران تشدد اور8شہری ہلاکتوں کے بعد جنوبی کشمیر میں پائی جانی والی اضطرابی کیفیت کے باعث یہاں بھی انتخابی عمل متاثر ہونے کا خد شہ ہے۔شوپیان سے ملی تفصیلات کے مطابق دوران گور نمنٹ مڈل اسکول ،جو پولنگ مرکز کیلئے مقرر کیا گیا تھا ،کو رات کی تاریکی کے دوران نذر آتش کیا گیا ۔یہ واقعہ پڈر شوپیان میں پیش آیا ،پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس بھی درج کرکے اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردی ۔تاہم چیف ایجو کیشن افسر شوپیان محمد صدیق نے بتایا کہ گور نمنٹ اپر پرائمری اسکول پڈر پورہ شوپیان کو آگ کے شعلوں کی نذر کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ مذکورہ اسکول کی عمارت تین کمروں پر مشتمل تھی ۔ادھر اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد شیراز احمد ساکنہ سوگن کے رہائشی مکان میں داخل ہوئے اور یہاں توڑ پھوڑ کی ۔شیراز احمد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ علاقے کے سابق سر پنچ ہے۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم بندوق برداروں نے اُسکی ٹانگ پر بھی گولی چلائی ہے ،جب سے لیکر اب تک وہ گھر واپس نہیں لوٹے ۔اس دوران شوپیان کے مضافاتی گائوں ٹکرو میں اتوار کی شب کو گولیوں کی آوازیں سنی گئیں ۔تاہم فوری طور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس پر کی گئی ۔اسی طرح کی تفصیلات یاری پورہ کولگام سے بھی موصول ہوئیں ،جن کے مطابق یہاں بھی گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں ۔تاہم اس واقعہ میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔واضح رہے کہ لوک سبھا کی اننت ناگ نشست کیلئے بدھ 12اپریل کو ممکنہ طور پر ووٹنگ ہونے جارہی ہے ۔ادھر کولگام کے گوپالپورہ گائوں میں تشدد بھڑک اٹھنے کی اطلاعات ہیں ۔مذکورہ گائوں کو اتوار کی شب پولیس وفورسز نے اپنے محاصر ے میں لیا ،اور ایک ہی کنبے کے کئی ممبران اہلخانہ کو حراست میں لیا ۔سوموار کو جب یہ خبر گائوں میں پھیل گئی ،تو نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل گرفتاریوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ۔ نوجوان مظاہرین مطالبہ کررہے تھے ،کہ گرفتار افراد کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے ۔اس دوران نوجوانوں نے مشتعل ہو کر یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا ،جس کے ساتھ ہی نوجوانوں اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں ۔مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی اور چھروں والی بندوق کا بھی استعمال کیا ۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں کشیدگی وتنائو کی صورتحال برقرار تھی جبکہ پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔یاد رہے کہ اتوار کو پولنگ عمل کے دوران بڈگام میں فورسز کی فائرنگ سے7نوجوان اور گاندر بل میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا اور100سے زیادہ افراد زخمیوں ہوئے جن میں کئی ایک کی حالت اسپتال میں نازک بنی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ دن بھر جاری رہنے والی پرتشدد جھڑپوں میں 100فورسز اہلکار بھی زخمی ہوئے ،کئی پولنگ مراکز کو تہس نہس کرنے علاوہ ووٹنگ مشینوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے تازہ شہری ہلاکتوں پر دو روزہ ہڑتال کال دی ہے ۔سید علی گیلانی اور میرواعظ کے علاوہ شبیر احمد شاہ ،ظفر اکبر بٹ ،نعیم خان اور دیگر لیڈران کی خانہ نظر بندی برقرار ہے جبکہ محمد یاسین ملک سینٹرل جیل میں مقید ہیں ،اس کے علاوہ سینکڑوں کارکنان ونوجوان تھانہ نظر بند ہیں ۔ادھرادھر پورے ضلع بانڈی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائیب رہا ۔پاپہ چھن کے قریب لوگوں نے صبح سویرے جمع ہوکر احتجاجی مظاہرے کئے جب ان کو منتشر کرنے کے لئے شلنگ کی گئی تو انہوں نے پتھرائو کیا بتایا جاتا کہ جس کی بنا پر مقامی سی آر پی کمیپ میں تعینات اہلکار باہر نکلے اور جو کوئی ان کے سامنے آیا اس کو لہولہان کردیا گیا ۔حاجن میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ اجس ،اشٹنگو ،کلوسہ ،سمبل ،ناید کھئے اور آس پاس کے علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال سے روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ۔

تبصرے