پاکستان کے 2سفارتی آفیسروں کو بھارت سے نکالنے پر اسلام آباد کا شدید ردعمل اسے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قراردیا ، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی

سی این ایس مانیٹرنگ : نئی دہلی/ بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو سفارتی آفیسروں پرجاسوسی کے الزام میں انہیں24 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ادھرپاکستان نے بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو سفارتی اہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی سفارتخانے کے امور کی نگرانی کرنے والے عہدیدار(چارج ڈی افیئرز) کو طلب کرلیا۔ ان اہلکاروں میں42 سالہ عابد حسین مشن میں اسسٹنٹ ہیں جبکہ محمد طاہر خان کلرک ہیں جن کی عمر 44 برس ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہیں ’بھارتی قانون نافذ کرنے والے حکام نے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر پکڑا ‘۔ ان اہلکاروں پر ایک مقامی شخص سے بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے متعلق دستاویزات لینے کا الزام ہے۔نئی دہلی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت نے دونوں پاکستانی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے جو ’سفارتی آداب کے خلاف کارروائیوں‘ میں ملوث تھے۔علاوہ ازیں بھارتی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستانی ہائی کمیشن سے بھارت کی قومی سلامتی کے خلاف ان عہدیداروں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں سخت احتجاج بھی درج کرایا گیا‘۔انہوں نے کہا کہ ’متعلقہ ذمہ داران سے کہا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سفارتی مشن کا کوئی بھی رکن بھارت میں غیرمجاز سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو یا ان کی سفارتی حیثیت سے متضاد انداز میں برتاونہ کرے۔ادھرپاکستان نے بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو سفارتی اہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار دینا اور انہیں 24 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا عمل منفی اور پہلے سے طے شدہ ’میڈیا مہم ‘ کا حصہ ہے اور یہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا تسلسل ہے۔ پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکام نے2 پاکستانی ہائی کمیشن کے اراکین کو اٹھایا اور ان پر بے بنیاد الزامات لگائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن کی مداخلت پر انہیں رہا کیا گیا۔عائشہ فاروقی نے کہا کہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پاکستانی سفارتی عملے کو الزام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا جو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن سفارتی آداب کے مطابق کام کرتا ہے جبکہ بھارتی عمل کا مقصد پاکستانی ہائی کمیشن کی کارکردگی کو متاثر کرنا ہے۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سفارتخاتی عہدیدار کو سخت احتجاج اور بھارت کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے2 اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخص قرار دینے اور ان پر لگائے گئے بھارتی الزام کو مسترد کرنے کے لیے طلب کیا گیا۔سااتھ ہی یہ پیغام بھی پہنچا دیا گیا کہ بھارتی ایکشن، سفارتی تعلقات اور روایات کے ویانا کنویشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔۔نئی دہلی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت نے دونوں پاکستانی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے جو ’سفارتی آداب کے خلاف کارروائیوں‘ میں ملوث تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں