کورونا وائرس سے مقابلہ جنگ جیسا غیر معمولی چیلنج پر جیت حاصل کریں گے : مودی
لاک ڈائون کی وجہ سے عوام کو ہوئی پریشانیوں کیلئے معافی مانگی

یو این آئی : نئی دہلی /وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس (کووڈ -19) کے خلاف جنگ کو غیر معمولی چیلنج قرار دیتے ہوئے اتوار کو کہا کہ اس وبا سے مقابلے کے لئے ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں جو دنیا کی تاریخ میں کبھی دیکھنے اور سننے کو نہیں ملے اور انہی کی بیناد پر ہندوستان اس وبا پر فتح حاصل کرے گا ۔ مودی نے ریڈیو پر نشر ہونے والے پروگرام ‘ من کی بات ’میں ڈاکٹروں، نرسوں اور کورونا وائرس انفیکشن سے نجات پا چکے لوگوں سے بات چیت کرکے ملک کے باشندوں کو پیغام دیا کہ یہ ایک جنگ جیسی صورتحال ہے اور اسے روکنے کے لئے جو کوششیں کر رہے ہیں وہی ہندوستان کو اس وبا پر جیت دلائیں گی ۔ مسٹر مودی نے ملک میں 21 دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریبوں اور محروم طبقے کے لوگوں کو درپیش مشکلات کے لئے معافی مانگی اور کہا کہ یہ زندگی موت کی جنگ ہے اور کورونا کو ہرانا ہے ۔اس کے لئے وقت پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ لینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اس لیے یہ قدم اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے کہا‘‘ سب سے پہلے میں تمام ملک کے باشنددں سے معذرت چاہتا ہوں اور میری آتما کہتی ہے کہ آپ مجھے ضرور معاف کریں گے کیونکہ کچھ ایسے فیصلے کرنے پڑے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے [؟]۔وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے خلاف یہ جنگ غیر معمولی بھی ہے اور چیلنج بھری بھی لہذا اس دوران کئے جارہے فیصلے بھی ایسے ہیں جو دنیا کی تاریخ میں کبھی دیکھنے اور سننے کو نہیں ملے ۔ کورونا وائرس کو روکنے کے لئے جو تمام قدم ہندوستانیوں نے اٹھائے ہیں، جو کوششیں اب ہم کر رہے ہیں ، وہی ہندوستان کوکوروناوائرس کی وبا پر جیت دلائیں گی ۔ مسٹر مودی نے غریبوں کے تیئں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا دل نہیں کرتا ایسے اقدامات کئے جائیں لیکن دنیا کے حالات دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ یہی ایک راستہ بچا ہے ، آپ کو ، آپ کے کنبے کو محفوظ رکھنا ہے ۔ انہوں نے ملک کے باشندوں سے کہا‘‘ غریبوں کے تئیں ہماری ہمدردی زیادہ ہونی چاہیے ’’۔ ہماری انسانیت اسی میں ہے کہ کہیں پر بھی کوئی غریب، دکھی، بھوکا نظر آتا ہے تو اس بحران کی گھڑی میں ہم پہلے اس کا پیٹ بھریں گے ، اس کی ضرورت کی فکر کریں گے اور یہ ہندوستان کر سکتا ہے ۔ یہ ہی ہمارا کلچر ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس نے دنیا کو قید کر دیا ہے ۔ یہ علم، سائنس، غریب، امیر، کمزور، طاقتور ہر کسی کو چیلنج دے رہا ہے ۔ یہ نہ تو ملک کی حدود میں مقید ہے ، نہ ہی کوئی علاقہ دیکھتا ہے اور نہ ہی کوئی موسم ۔ یہ وائرس انسان کو مارنے کی ، اسے ختم کرنے کی ضد کر بیٹھا ہے اور اسی لیے تمام لوگوں کو، پورے بنی نوع انسان کو اس وائرس کے ختم کرنے کے لئے متحد ہو نے کا عزم کرنا ہی ہوگا ۔مسٹر مودی نے لاک ڈاؤن کے سلسلے میں بحث و مباحثہ کر رہے لوگوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر عمل کر رہے ہیں تو ایسا کرکے وہ گویا جیسے دوسروں کی امداد کر رہے ہیں، یہ غلط فہمی پالنا درست نہیں ہے ۔ یہ لاک ڈاؤن آپ کے خود بچنے کے لئے ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘ آپ کو اپنے آپ کو بچانا ہے ، اپنے کنبے کو بچانا ہے ۔ابھی آپ کو آنے والے کئی دنوں تک اسی طرح صبر کا مظاہرہ کرنا ہی ہے ،‘ لکشمن ریکھا ’ پر عمل کرنا ہی ہے ۔لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نصیحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرنا نہیں چاہتا لیکن کچھ لوگ ایسا کر رہے ہیں کیونکہ اب بھی وہ صورت حال کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو یہی کہیں گے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کریں گے تو کورونا وائرس سے بچنا مشکل ہو جائے گا ۔ دنیا بھر میں کئی لوگوں کو کچھ اسی طرح کی خوش فہمی تھی ۔ آج یہ سب پچھتا رہے ہیں’’۔ وزیر اعظم نے کورونا وائرس کے مشتبہ افراد کے ساتھ امتیازی اسلوک کی شکایات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا‘‘ مجھے کچھ ایسے واقعات کا پتہ چلا ہے جن میں کورونا وائرس کے مشتبہ یا پھر جنہیں ہوم قرنطینہ میں رہنے کو کہا گیا ہے ، ان کے ساتھ کچھ لوگ برا برتاؤ کر رہے ہیں ۔ ایسی باتیں سن کر مجھے انتہائی دکھ ہوا ہے ۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے ۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں، اب ایک دوسرے سے صرف‘ سوشل ڈسٹنس ’ بنا کر رکھنا ہے ، نہ کہ جذباتی یا ہیومن ڈسٹنس۔ ایسے لوگ کوئی مجرم نہیں ہیں بلکہ وائرس کے ممکنہ شکار ہیں ۔ ان لوگوں نے دوسروں کو انفیکشن سے بچانے کے لئے خود کو الگ کیا ہے اور قرنطینہ میں رہ رہے ہیں’’۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مقامات پر لوگوں نے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔ یہاں تک کہ وائرس کی کوئی علامات نظر نہیں آنے پر بھی انہوں نے خود کوالگ کیا ۔ ایسا انہوں نے اس لئے کیا کیونکہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں کوئی دوسرا شخص اس وائرس سے متاثر نہ ہو پائے ، اس لئے جب لوگ خود اتنی ذمہ داری کا احساس کر رہے ہیں تو ان کے ساتھ برا برتاؤ کرنا کہیں سے بھی جائز نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ ہمدردانہ تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹروں اور نرسوں، نیم طبی عملے ، بینک ملازمین، سبزی، دودھ اور راشن وغیرہ گھروں میں پہنچانے والوں، ایمبولینس ڈرائیوروں، ای کامرس کمپنیوں کے ملازمین، فون، کیبل وغیرہ ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والوں کے تئیں تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا‘‘ آپ جیسے تمام ساتھیوں کے حوصلے اور جذبے کی وجہ سے ہی اتنی بڑی جنگ ہم لڑ پا رہے ہیں۔آپ جیسے ساتھی چاہے وہ ڈاکٹر ہوں، نرس ہوں، نیم طبی عملہ ، آشا ورکر ، اے این ایم ورکر ، صفائی ملازم ہوں، آپ کی صحت کی بھی ملک کو بہت فکر ہے ۔ اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسے تقریبا 20 لاکھ ساتھیوں کے لئے 50 لاکھ روپے تک کا میڈیکل انشورنس کا اعلان حکومت نے کیا ہے تاکہ آپ اس جنگ میں مزید اعتماد کے ساتھ ملک کی قیادت کر سکیں ’’ ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آج ہر ہندوستانی اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے گھر میں بند ہے لیکن آنے والے وقت میں یہی ہندوستانی اپنے ملک کی ترقی کے لئے ساری دیواروں کو توڑ کر آگے نکلے گا اور ملک کو آگے لے جائے گا ۔ آپ اپنے کنبے کے ساتھ گھر میں رہئے ، محفوظ اور ہوشیار رھے ۔ ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے ، ضرور جیتیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘من کی بات’ کے لئے پھراگلے ماہ ملیں گے اور امید ہے کہ اس وقت تک اس بحران کو شکست دینے میں ہم کامیاب ہو بھی جائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں