اعظم خان کے فرزند عبداللہ اعظم پولیس حراست میں  سماج وادی پارٹی کا احتجاج

لکھنؤ: 31جولائیâیواین آئیá سماجوادی پارٹی نے بدھ کو رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی میں چھاپہ مارنے اور پارٹی کے رکن پارلیمان وسینئر لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو پولیس حراست میں لئے جانے کے خلاف جم کر احتجاج کیا۔ سوار ٹنڈا اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے عبداللہ کو پولیس و ضلع انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی میں چھاپہ ماری کے دوران مدرسہ عالیہ سے کتابوں کے چوری کرنے کے الزام میں اپنی حراست میں لے لیا ہے ۔ ایس پی کے ریاستی صدر نریش اتم کی قیادت میں نکالے گئے احتجاج میں شامل افراد کا لکھنؤ میں راج بھون کے نزدیک سیکورٹی اہلکار کے ساتھ نوک جھونک ہوئی۔احتجاج کرنے والے راج بھون میں داخل ہونا چاہ رہے تھے جنہیں سیکورٹی اہلکار نے بریکیٹنگ لگا کرروک دیا۔بعد میں وہ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے راج بھون کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ ادھر رامپور میں پولیس ذرائع نے بتایا کہ عبداللہ کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہے اور کتابوں کی چوری کے الزام میں پوچھ گچھ کر کے انہیں پولیس لائن لے گئی ہے ۔رامپور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجے پال نے کہا کہ ایم ایل اے کو حکومت کے افسران کے کا کام میں داخل اندازی پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ پولیس نے یونیورسٹی میں چھاپہ ماری کی اور دعوی کیا کہ وہاں سے 2000چوری کی کتابیں برآمد کی گئی ہیں۔ایک خاتون سمیت لائبریری کے پانچ ملزمین کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مدرسیہ عالیہ سے 8ہزار کتابوں کے گمشدگی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ مائینارٹی ڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی صدر ارشد وارثی نے 22جولائی کو پولیس میں شکایت درج کرائی تھی اور شبہ کا اظہار کیا تھا کہ ان کتابوں کو اعظم خان نے جوہری یونیورسٹی کی ممتاز لائبریری میں رکھوائی ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں