چھ بلوں کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے پر بات ہوئی تھی:اپوزیشن

نئی دہلی،31جنوریâیواین آئیáراجیہ سبھا میں اپوزیشن نے آج کہا کہ اطلاع کا حق اور تین طلاق بل کو سلیکٹ کمیٹی کوبھیجنے کے مسئلے پر حکومت کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی لیکن اس نے اپوزیشن کو بھروسے میں لئے بغیر ہی ان بلوں کو پاس کرادیا۔چیئرمین ایم وینکئیا نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کے اراکین کی بات کا نوٹس لیا ہے اور وہ پارلیمانی امور کے وزیرمملکت اور ایوان کے لیڈر کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کریں گے ۔ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ حکومت نے سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ 23بلوں کے بارے میں بات چیت کی تھی اور یہ پوچھا تھا کہ وہ کن بلوں کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن نے کہا تھا کہ ان میں سے کم از کم آدھے بل سلیکٹ کمیٹی کے پاس جانے چاہئے ۔اس پر حکومت نے کچھ اعتراض ظاہر کیا تو اپوزیشن نے اسے 6بلوں کو ترجیح دینے کی بنیاد پر سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے اور دو کو دوسری ترجیح میں رکھنے کی بات کہی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس وقت اپوزیشن سے کہا تھا کہ وہ ان 8بلوں کے بارے میں جلد ہی انہیں مطلع کرائے گی۔اپوزیشن نے سوچا کہ حکومت نے ان کی بات مان لی ہے ۔لیکن حکومت نے اپوزیشن کو کوئی اطلاع نہیں دی۔مسٹر آزاد نے کہا کہ ترجیح والے چھ بلوں میں تین طلاق اور اطلاع کا حق دونوں بل شامل تھے اور اپوزیشن یہ مان کر چل رہا تھا کہ حکومت انہیں سلیکٹ کمیٹی میں بھیجے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان بلوں کے لئے اپنے اراکین کو تو آگاہ کردیا لیکن اپوزیشن کو اپنی تیار سے آگاہ کرائے بغیر انہیں پاس کرالیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی تذبذب میں ہی رہ گئی۔یہ حکومت کا غیر مناسب رویہ ہے ۔ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ان چھ بلوں کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی بات ہوئی تھی لیکن حکومت نے تین طلاق بل کو اچانک ایوان میں پیش کرنے کا پیر کی رات فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلقہ بل بھی سلیکٹ کمیٹی میں بھیجے جانے والے بلوں کی فہرست میں تھا لیکن حکومت نے اسے بھی آج ایجنڈوں میں شامل کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس تعداد کی طاقت ہے اور وہ بلوں کو پاس کرا سکتی ہے لیکن یہ پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق نہیں ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں