پائیدار امن کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں فورسز کی مزید تعیناتی کا مقصد خوف و دہشت: حریت گ

سرینگر/حریت کانفرنس گ نے بھارت کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر فورسز کی مزید تعداد بڑھانے اور یہاں مزید فورسز کو تیار رکھنے کے جو نئے احکامات صادر ہوئے ہیں اس سے دنیا کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ بھارت کس طرح پوری قوت کو کشمیریوں کی مبنی برحق تحریک کو کچلنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ لاکھوں افواج کی کشمیر میں موجودگی کے باوجود مزید سو کمپنیوں کو واردِ کشمیر کرنے اور مزید سو کو تیار رہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں جاری جائز تحریک کو دبانے کے لیے لوگوں میں مزید خوف ودہشت پیدا کیا جائے۔ حریت نے بھارتی فوجی سربراہ کے اس قول کہ ’’کشمیر زیادہ دیر تک بین الاقوامی مسئلہ نہیں رہے گا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انکا یہ کہنا دراصل مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم کرنا ہے جس سے یہ لوگ بار بار انکار کرتے آرہے تھے، اس لیے انہیں چاہیے کہ فوجی قوت سے اس مسئلہ کو دبانے کے بجائے عالمی سطح پر اس مسئلہ کے تصفیہ کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو سنیں اور اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی سننے پر آمادہ کریں اور جنگی جنون کے ماحول کو پیدا کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے جنوبی ایشیائ میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں، کیونکہ آج قریباً ایک صدی سے بھارت مسئلہ کشمیر کو دبانے کے لیے تمام قوت اور ہتھکنڈے آزما چکا ہے، لیکن وہ کشمیریوں کی جائز امنگوں اور نا ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبا سکا۔ حریت کانفرنس نے چین کی طرف سے صدر امریکہ کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرنے پر خطے کے امن وامان کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں