جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں معروفی سیاسی وسماجی کارکن جیلانی کمار کا اظہار تشویش

 سرینگر/بھارتی آئین کی دفعہ 370ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں وکشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اُسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے جبکہ زیادہ تر امور میںوفاقی آئین کے نفاذ کو جموں وکشمیر میںممنوع قراردیتی ہے اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور ومالیات خارجہ امور کو چھوڑ کر باقی سب معاملوں میںریاستی حکومت کی توثیق ومنظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ جموں وکشمیر میں نہیںہوسکتا ۔دفعہ370کے تحت ریاست جموں وکشمیر کو ایک خصوصی اورمنفرد مقام حاصل ہے بھارتی آئین کے جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموںو کشمیر پر نافذ نہیں کئے جاسکتے کشمیر میں سیاسی وغیر سیاسی جماعتوں کی یہ یکساں رائے ہے کہ آئین ہند میں متنازعہ کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کی کوششوں کا مقصداس مسلم اکثریتی علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے راستہ ہموار کرنا ہے ۔مرکزی سرکار کشمیر میں ہندو آبادی بساکر ریاست میںفلسطین جیسی کیفیت پید اکر کے مکمل خانہ جنگی میں تبدیل کراناچاہتی ہے، ان خدشات کے پیش نظر عالمی اداروںکو فوری طورپر سلامتی کونسل سمیت بھارت پر دبائو ڈالنا چاہئے تاکہ اس کا فوری ادراک ہوسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں