شہرکاناقص ڈرینج سسٹم

جمعرات 25جولائی کی صبح صرف دو گھنٹے موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس نے پورے شہر کو خطرناک حد تک پانی میں ڈبو دیا۔ خاص طور پر شہر کے بالائی علاقے تو کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئے۔ اگر خدانخواستہ بارشوں کا سلسلہ کچھ دیر تک اور چلتا تو پورا شہر پانی میں ڈوبتا اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن جس طرح شہر کے بالائی اور بعض نچلے محلوں میں پانی سڑکوں پر بہنے لگا اس سے مختلف محکمہ جات کی ناقص کارکردگی سب پر عیاں ہوگئی کہ انہوں نے اتنے فنڈز کے باوجود شہر میں ڈرینیج سسٹم کو مضبوط موثر اور کار آمد بنانے کےلئے کچھ نہیں کیا ہے اور فنڈز کا اچھی طرح سے استعمال نہیں کیاگیا۔ جمعرات کی صبح کو بارشیں شروع ہوگئیں جو گھنٹے دو گھنٹے جاری رہیں اس سے شہر کے جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں آفتاب مارکیٹ، پلیڈیم سٹریٹ، لال چوک گھنٹہ گھر،کورٹ روڑ، ککر بازار  وغیرہ شامل ہیں۔ پانی اس قدر جمع ہوگیا کہ سیدھا دکانوں کے اندر چلاگیا اور اس طرح لاکھوں روپے کا مال و اسباب تباہ ہوگیا۔ اس وقت تک ایک بھی پمپ چالو نہیں کیا گیاتھا اس کے بعد دکانداروں نے از خود انجینئروں کے ساتھ رابطہ قایم کرکے ان کی منت سماجت کی اور ان کوپمپ چالو کروانے پر مجبور کردیا لیکن اس کے باوجود پانی اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا کیوںکہ جو یہاں ڈی واٹرنگ پمپ نصب ہیں وہ غالباًپچاس ساٹھ سال پرانے ہونگے۔ لیکن اس کے بعد کسی طرح لوگوں اور خاص طور پر دکانداروں کی آہ و زاری کے بعد محکمہ فائیر بریگیڈ کی طرف سے دو انجن بھیجے گئے جن کی مدد سے پانی باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران یہاں ہر طرح کی کارباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ گاڑیوں کی آمد و رفت رک گئی اور پورے دن اس اہم ترین کاروباری علاقے میں کوئی بھی کام نہیں ہوسکا۔ سہ پہر کے بعد ضلع انتظامیہ کے کئی افسر نمودار ہوگئے جن کو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ صرف دو گھنٹے کی بارشوں نے یہ حال کردیا اور اگر کبھی دن بھر بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا تو پورا لال چوک ہی ڈوب جاتا۔ آخر اس کی کیاوجہ ہے۔ ہر سال تعمیرات سے جڑے محکموں کےلئے کروڑوں روپے مختص رکھے جاتے ہیں ان رقومات کا کیا کیا جاتا ہے۔ کیوں یہاں موثر ڈرینج سسٹم نہیں ہے آخر اتنے کرڑوں روپے مختص ہونے کے باوجود متعلقہ محکمے اس معاملے میں کیوں غفلت شعاری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہر دور حکومت میں خاص طور پر بجلی پانی سڑکوں اور ڈرینئج کےلئے بھاری رقومات بجٹ میں مختص رکھی جاتی ہیں لیکن ان رقومات کا کیا ہوتا ہے ؟اگر یہاں ماہر انجینئروںکی کمی ہے تو ان کو دوسری ریاستوں سے طلب کرنے میں کیاقباحت ہے۔ کیا ہمارے انجینئر صاحبان اس قدر نابکار ہیں کہ ان سے ڈرینیج سسٹم درست نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ اسلئے گورنر انتظامیہ کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے ڈھیر ساری رقومات میسر ہونے کے باوجود شہر کا ڈرینیج سسٹم کیوں اب تک چست درست نہیں کیاجاسکاہے اس کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں