کشمیر پر مفاہمت، مخاصمت نہیں

پارلیمنٹ میں کل اس وقت اپوزیشن ممبروں نے زبر دست احتجاج کیا جب سرکار کی طرف سے اس بات کی وضاحت کی گئی کہ امریکی صدر ٹرمپ کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کروانے کےلئے ثالث کا کردار ادا کریں۔ دراصل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر بھی اٹھایا جس پر خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ نے عمران خان کو بتایا کہ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ اوساکامیں جی 20ملکوں کے اجلاس کے دوران نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے استدعا کی تھی کہ وہ کشمیر مسلئے پر اپنا کردار ادا کریں۔ امریکی صدر نے عمران خان کو بتایا کہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیاں مخاصمت کا باعث بنا ہوا ہے اسلئے دونوں ملک اس مسئلے کوحل کرنے کی کوششیں کریں اور اگر امریکہ کو اس میں کوئی کردار ادا کرنے کےلئے کہا جائے گا تو وہ اس کےلئے تیار ہے۔ اس ڈیولپمنٹ کے تناظر میں کل جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا تو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھایا اور کہا کہ سرکاری طور پر اس سارے معاملے کی وضاحت کی جائے۔ جس پر سرکار کی طرف سے بتایا گیا کہ نریندر مودی نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران ایسی کوئی پیش کش نہیں کی ہے لیکن ا س پر اپو زیشن مطمئن نہیں ہوئی اور احتجاج جاری رکھا جس پر راجیہ سبھا کا اجلاس کچھ دیر تک ملتوی کیا گیا۔ اپوزیشن ممبران بار بار اس بات کےلئے اصرار کررہے تھے کہ وزیر اعظم خود ایوان میں آکر اس سارے معاملے کی وضاحت کریں۔ بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت تمام متنازعہ مسایل شملہ ایگریمنٹ اور لاہور اعلامیہ کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے ۔ اس سے قبل وینز ویلا میں غیر جانبدار ملکوں کے اجلاس میں پاکستان نے پھر کشمیر کا تذکرہ کیا جس پر بھارت نے زبردست احتجاج کیا اور کہا کہ پاکستان کو عالمی فورموں میں اس طرح کے معاملات اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ بھارتی مندوب نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا الزام بقول مندوب غلط اور بے بنیاد ہے۔ بھارت بار بار مسئلہ کشمیر اور دوسرے تمام مسایل باہمی مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن پاکستان اس کو یہ کہہ کر ٹال رہا ہے کہ کشمیر دو ملکوں کے درمیاں کوئی سرحدی تنازعہ نہیں۔ اب ستر سال ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک بھارت اور پاکستان کے درمیاں یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے ۔ اس دوران دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ تمام متنازعہ مسایل کا حل تلاش کرنے کےلئے پرامن مذاکراتی عمل شروع کریں تاکہ لوگ پرامن طور پر زندگی گذار سکیں۔ اس وقت دونوں ملکوں کو بہتیرے مسایل درپیش ہیں جن میں بھوک بیماری افلاس، غربت وغیرہ شامل ہیں ان کےخلاف جنگ کرنے کی ضرورت سے دونوں ملک انکار نہیں کرسکتے ہیں۔ اسلئے بہتر یہی ہے کہ مخاصمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیاجائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں