گورنر اور شہر خاص

ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کرگل میں اخباری نمایندوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران کہا کہ کشمیر میں کورپشن کی بیماری عام ہے اور اس پر قابو پانے کےلئے گورنر انتظامیہ بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شہر خاص کے لوگ انتہائی غربت کی زندگی گذار رہے ہیں اور دوسری جانب ایسے بھی سرکاری افسر ہیں جن کی عیاشیاں عروج پر ہیں اور جن کے پاس کافی جائیداد یں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو تین مہینوں کے دوران ایسے مگر مچھوں کےخلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے گی جنہوں نے سرکاری خزانوں کو لوٹا ہے اور کورپشن کے ذریعے کافی بڑی بڑی جائیدادیں بنائی ہیں۔ گورنر نے بتایا کہ شہر خاص میں لوگوں کے پاس کام کاج نہیں اور وہ مشکل حالات میں گذر بسر کررہے ہیں۔ گورنر کے اس بیان پر عام لوگوں میں جہاں مثبت ردعمل ظاہر کیاجارہا ہے وہیں دوسری جانب لوگوں میں یہ امید بھی پیدا ہوگئی ہے کہ شہر خاص میں رہنے والوں کے مسایل گورنر انتظامیہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ کشمیر کی دستکاریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں اور یہ سب کچھ اس وجہ ہے کہ یہاں کے دستکار سونے کے ہاتھ رکھتے ہیں ان ہاتھوں کے کمالات کا مشاہدہ ان کی طرف سے بنائی گئی دستکاری مصنوعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ کشمیریوں کی دستکاریوں نے دنیا بھر میں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ چاہئے وہ قالین بافی ہو یا شالبافی ہو۔ اخروٹ کی لکڑی پر نقش نگاری کا کام ہو یا پیپر ماشی ہو غرض ہر طرح کی دستکاریوں کا دنیا بھر میں کوئی ثانی نہیں ملتا ہے لیکن یہی دستکار آج کل بے کس اور لاچار نظر آرہے ہیں۔ ان کے سامنے روزگار کے دوسرے وسایل نہیں کیوںکہ سرکاری طور پر یہاں کی دستکاری مصنوعا ت کی خریداری کا موثر انتظام نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اپنی دستکاری مصنوعات اونے پونے داموں بیچ کر اپنے عیال کا پیٹ پالتے ہیں۔ شہر خاص میں قالین بافی اور شالبافی کے علاوہ تانبے کے برتن بنانے والوں اور ان پر نقش نگاری کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد رہتی ہے جو آج کل کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ وہ تانبے کے برتن بنانے میں خون پسینہ بہاتے ہیں لیکن بعد میں ان کے پاس خریدار نظر نہیں آتے ہیں اور سرکاری سطح پر بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم کہ آج کل مشینوں پر تانبے کے برتن کثر ت سے بنائے جاتے ہیں جو قانوناًممنوع ہے لیکن مشینوں پر تانبے کے برتن بنانے والے چونکہ اثر و رسوخ کے مالک ہیں اسلئے ان کےخلاف کوئی بھی افسر کاروائی کرنے کی جرات نہیں کرتا ہے نتیجے کے طور پر تانبے کے برتن بنانے والوں کی حالت بھی انتہائی پتلی ہے۔ اب جبکہ گورنر صاحب نے شہر خاص اور اس میں رہنے والوں کا تذکرہ کیا ہے تو انہیں چاہئے کہ دستکاروں اور کاریگروں کی مالی معاونت کریں۔ ان کو اپنا کاروبار جاری رکھنے کےلئے بھر پور مالی معاونت بصورت آسان قسطوں پر قرضہ جات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کشمیر کی دستکاری مصنوعات کی خریداری کا انتظام کیاجائے اور دستکاروں کے پڑھے لکھے بچوں کےلئے ہر معاملے میں ریزر ویشن کا انتظام کریں تب کہیں جاکر ان کی مالی حالت سدھر سکتی ہے ورنہ کشمیر کی روائتی دستکاریاں آہستہ آہستہ صفحہ ہستی سے غایب ہوجائینگی۔ کیونکہ دستکاروں کو جب کام نہیں ہوگا تو وہ روزگار کمانے کےلئے دوسرے ایسے کام شروع کرینگے جن سے ان کو دو وقت کی روٹی مل سکے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں