یاسین ملک علیل ، این آئی اے کی زیادتیوں کا شاخسانہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرفسے آج ہڑتال کی اپیل

سرینگر/مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سربراہ حریت کانفرنس گ سید علی شاہ گیلانی، سربراہ حریت کانفرنس ع میرواعظ محمد عمر فاروق اور لبریشن فرنٹنے 23ñاپریل 2019÷ئ بروز منگل مکمل کشمیر بند کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک روزہ احتجاجی ہڑتال لبریشن فرنٹ کے محبوس و علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کے ساتھ دہلی میں این آئی اے کے غیر قانونی اور ہتک آمیز سلوک، این آئی اے اور ای ڈی کی جانب /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سے کشمیری قائدین ،ان کے اہل و عیال اور بچوں ،سرکردہ کشمیری تاجروں ، ٹریڈ یونین قائدین اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے متعلق افراد کو تنگ طلب کرنے کے خلاف کی جارہی ہے ۔ یہ بات واضح رہے کہ این آئی اے کے اسی غیر قانونی اور ہتک آمیز رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یاسین صاحب پچھلے ۲۱ روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور رام منوہر لوہیا ہسپتال میں انکی حالت لگاتار خراب ہورہی ہے۔کشمیریوں کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی کی لگاتار جاری جارحیت کو سرکاری سطح پر شروع کئے گئے تشدد سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ ہے کہ سال ۷۱۰۲÷ئ کے اوائل سے ہی بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں سے طاقت کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار پربدلہ لینے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کام کےلئے این آئی اے اور ای ڈی کو بطور ہتھیار استعمال میں لایاجانے لگا۔اسی ترنگ میں ایک بے بنیاد ، من گھڑت اور جھوٹا کیس بناکر نہ صرف کئی مزاحمتی قائدین، اراکین کو گرفتار کیا گیا بلکہ کئی سرکردہ تاجروں اور صحافیوں کو بھی جیل کے اندر دال دیا گیا ۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میںسید شبیر احمد شاہ،محمد ایاز اکبر، شاہد الاسلام،الطاف احمد شاہ، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈارâبٹہ کراٹےá ،تاجر ظہور احمد وٹالی،محمد اسلم ، جاوید احمد و شاہد یوسف شاہ کے ساتھ ساتھ علیل خاتون قائدہ سیدہ آسیہ اندرابی ،فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین صاحبہ بھی شامل ہیں جنہیں گرفتار کرکے تہاڑ جیل میں ڈال رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے مزاحمت کاروں ،سرکردہ تاجروں اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے متعلق لوگوں کے ساتھ ساتھ مزاحمتی قائدین سے وابستہ رشتہ داروں اور فیملی ممبران تک کو دہلی طلب کرکے پریشان کرنے کا نیا سلسلہ بھی دراز کیا گیا جو ہنوز جاری ہے۔ قائد مشترکہ مزاحمت میرواعظ محمد عمر فاروق کو بار بار دہلی طلب کیا گیا جبکہ بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی کے دونوں بیٹوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور ڈاکٹر نسیم گیلانی کو بھی بار بار دہلی بلاکر تنگ طلب کرنے کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔اس کے علاوہ پوری قیادت بلکہ کشمیریوں کی مزاحمت کے خلاف میڈیا ٹرائل اور نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم بھی شروع کردی گئی جس کا سلسلہ بھی بلا تامل جاری وساری ہے۔ایسے ہی ذلیل اور تحقیر آمیز مظالم اور سلوک کے خلاف قائد محمد یاسین ملک نے احتجاج کیا اور دہلی میں این آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کردیا جو آج بارہویں روز بھی جاری ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں