میراسب سے بڑا اثاثہ کشمیری عوام کی پرُخلوص محبت اور حمایت ہے، ہم اتنے کمزور نہیں کہ اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہوجائیں گے: میرواعظ

سرینگر/ حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری اوراقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے قدیم حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے آج سے نہیں بلکہ 1931ئ سے یہاں کے عوام مال و جان کی قربانیاں پیش کررہے ہیں اور1947ئ کے بعد سے جب بھارت اور پاکستان کی صورت میں دو الگ الگ مملکتیں وجود میں آئیں تب سے جموںوکشمیر کے عوام دونوں ممالک سے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے ۔ مسلسل دو جمعہ تک مرکزی جامع مسجد بند رہنے کے بعد پہلی بار مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جتنا پرانا مسئلہ ہے  تب سے لوگ آتے گئے لیکن جامع مسجد کے منبر و محراب ، یہاں کے عوام کی حق و انصاف سے عبارت موقف کی بھر پور ترجمانی کا فریضہ ادا کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد کے منبر و محراب نے 1931ئ سے لیکر آج تک ہر مرحلے پر یہاں کے عوام کے حقوق کی ترجمانی کی بات کی ہے ۔70 سال کا عرصہ گذر گیا ہماری تنظیم کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی رائے کے مطابق حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی قیادت اقتدار کی خواہاں نہیں اور ہماری لڑائی اقتدار کیلئے نہیں ، میرواعظ کا منصب ایک اسلامی اور دعوتی منصب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس منصب کا تقاضا ہے کہ حق کی بات بہ بانگ دہل کی جائے یہی وجہ ہے کہ جامع مسجد کے منبر ومحراب آج سے نہیں صدیوں سے حق کی بات کرتا رہا ہے ۔ ہماری سیاست اصولی سیاست ہے، ہماری سیاست یہاں کے عوام کے جذبات، احساسات اور امنگوں کی ترجمانی کی سیاست ہے ۔ یہاں کے عوام نے 1947ئ سے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جہاں عوام نے اپنے حق کیلئے قربانی پیش کی ہے وہاں قیادت بھی قربانی پیش کرنے سے پیچھے نہیں رہی اور نہ رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ میں نے بار بار اس منبر و محراب سے یہ بات کہی ہے کہ ہماری لڑائی کسی مذہب  یا ملک کیخلاف نہیں ، ہماری لڑائی حکومت ہندوستان کی اُن غلط پالیسیوں کیخلاف ہے جو 1947ئ سے آج تک انہوں نے اس مسئلہ کو دبانے کے حوالے سے Military might سے عبارت approach اختیارکررکھا ہے ۔70 سال گذر گئے آج کشمیریوں کی چوتھی نسل سڑکوں پر ہے ۔ ہم1947 میں بھی یہی بات کہتے تھے آج بھی دہرا رہے ہیں۔ مہاجر ملت مولانا محمد یوسف شاہ صاحبؒ نے بھی یہی بات کہی ، پھر میرے والد شہید ملت مولانا محمد فاروق صاحبؒ نے بھی یہی بات کہی اور 17 سال کی عمر سے جب میں نے بحیثیت میرواعظ یہ منبر و محراب سنبھالا تب سے آج تک میں بھی یہی بات دہرا رہا ہوں کیونکہ یہ بات حق و صداقت کی ہے۔ میرواعظ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا کوئی جرم ہے۔ کیا یہ بات کہنا کسی ملک کیخلاف اعلان جنگ ہے ؟ کیا یہ کہنا کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت اور پاکستان نے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے دہشت گردی ہے؟ 1993 میں  ہم نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی بنیاد ڈالی تاکہ مسئلہ کشمیرکا سیاسی سطح پر حل نکالنے کیلئے کوشش کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ میں او آئی سی میںغیر جانبدارتحریک (NAM) اور دیگر بین الاقوامی فورموں میں یہ بات کہی کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور حل کیا جائے ۔لیکن آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے اور بدقسمتی سے بھارت کے الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ جو کوئی مسئلہ کشمیر کی بات کرے گا وہ دہشت گرد ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ ہم انصاف پسند لوگ ہیں، ہم وہ لوگ ہیں جو بھارت کو ان کے وعدے یاد دلارہے ہیں ۔ وہ وعدے جو کشمیری عوام سے بھارتی پارلیمنٹ میں کئے گئے ان کی قیادت نے سرینگر کے لالچوک میں آکر کئے ، اگر ان وعدوں کی یاد دلانا دہشت گردی ہے تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہندوستان کی سیاست کہاں جارہی ہے، بھارت کے لوگ کہاں جارہے ہیں۔ محمد یاسین ملک اور دینی مبلغ مولانا مشتاق ویری کو PSA کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ، جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو گرفتار کیا گیا ،اور یہ سب اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر کو دبایا جائے ۔ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو سارا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، قیادت کو دبانے کیلئے، پرانے cases کے تحت گرفتاریاں کرنے کیلئےNIA کے ذریعے نوٹس اجرا کرکے قیادت کو ہراساں کرنے کیلئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ میں نے اور میرے والد نے یہ چیزیں دیکھی ہیں۔ مہاجر ملت مولانا محمد یوسف شاہ ؒ کو حق بات کہنے کی پاداش میں جلائ وطن کیا گیا ۔میرے والد کو حق کی پاداش میں شہید کیا گیا ۔تاریخی اسلامیہ سکول کو جلایا گیا، میرے چچا کو مسجد میں شہید کیا گیا ۔ اس کے بعد قدغنیں ، گرفتاریاں، نظربندیاں، جامع مسجد پر پابندیاں یہ سب حربے اور ہتھکنڈے اس لئے استعمال کئے گئے تاکہ یہاں کے عوام کی جائز آواز کو دبایا جائے۔میں حکومت ہندوستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرا سب سے بڑا ا ثاثہ کشمیری عوام کی پرخلوص محبت اور حمایت ہے اور یہی میری سب سے بڑی طاقت ہے ۔  ہمارا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے میں نے جو بات اٹل بہاری واجپائی سے کی ،ایڈوانی سے کی ، منموہن سنگھ سے کی ، جنر ل پرویز مشرف سے کی اور پوری دنیا کی قیادت کے سامنے کی اور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے دو ہی طریقے ہےں یا اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے یا پھر مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جائے ۔میں بھارت کے ارباب اقتدار سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مفاد کیلئے کشمیرکو بھینٹ نہ چڑھائیں ، میراعظ نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ کی مسجدوں میں پیش آئے دہشت گردانہ واقعات جن میں درجنوں مسلمانوں کو شہیداور زخمی کیا گیا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازشیں کی جارہی ہیں ۔ جناب میرواعظ نے شہید ہوئے افراد کے درجات کی بلندی اور زخمی افراد کی صحتیابی کیلئے دعا کی جبکہ اس موقعہ پر جامع مسجد کے امام حی جناب سید احمد سعید نقشبندی نے متحدہ مجلس علمائ کی 12 مارچ کی پاس شدہ قرارداد کی عوام سے تائید کرائی۔اس دوران نماز جمعہ کے فوراً بعد جامع مسجد سے راجوری کدل چوک تک متحدہ مجلس علمائ کے پروگرام کی پیروی میں امام حی کی قیادت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس دوران عوام نے جناب میرواعظ کیخلاف ہراسانیوں کے عمل اور مذہبی اور سیاسی قائدین کی گرفتاری کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں