کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات کا پہلا دور مکمل دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت

لاہور / پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے جمعرات کو کرتار پور راہداری کی تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات امرتسر کے قریب بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہوئے جس میں پاکستان کا وفد وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل کی سربراہی میں شریک ہوا۔ بھارت کے وفد کی قیادت وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس سی ایل داس نے کی۔ ایک روزہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد پاکستان واپس پہنچنے پر ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا  /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کہ دونوں وفود میں شامل ماہرین کے درمیان بھی بات چیت ہوئی ہے۔ واہگہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان کچھ معاملات پر اختلافات ہیں۔ لیکن ان کے بقول اس وقت اختلافی معاملات کی تفصیل نہیں بتائی جاسکتی۔ محمد فیصل نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں طرف کے تیکنیکی ماہرین کی اگلی ملاقات19 مارچ کو کرتار پور میں زیرو پوائنٹ پر ہوگی جب کہ وفود کی سطح پر مذاکرات کا اگلا دور دو اپریل کو پاکستان کی میزبانی میں واہگہ میں ہوگا۔ مذاکراتی میں شریک ہونے والے پاکستانی وفد میں دفترِ خارجہ، وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ مواصلات، متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارتِ قانون کے نمائندے شامل تھے۔ وفد جمعرات کی صبح ہی واہگہ کے راستے بھارت گیا تھا۔ گزشتہ ماہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ تھا۔ اگرچہ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی لیکن یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری انتہائی کشیدہ صورتِ حال کے باوجود یہ مذاکرات منسوخ نہیں کیے گئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں