پیٹرول پمپوں سے صارفین مایوس لوٹ رہے ہیں ، حکومت کا انکار سب ٹھیک ہے ، لیکن لوگ زبردستی زیادہ پیٹرول لیتے ہیں: ڈویژنل کمشنر

سرینگر/ کے این ایس/ وادی میں پیٹرول پمپوں پر پیٹرول کی عدم دستیابی سے لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہوئے ہیں تاہم صوبائی کمشنر نے عدم دستابی کی رپورٹوں کو نکارتے ہوئے کہا کہ لوگ افواہ بازی اور غیر یقینی صورتحال کے بیش پیٹرول کا زخیرہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وادی کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے پیٹرول پمپوں پر سپلائی کی عدم دستیابی کو لے کر انتہائی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں سرحدی تناﺅ اور/جاری صفحہ نمبر ۹پر
 اندرونی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے بیچ صوبائی انتظامیہ نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کرتے ہوئے صارفین کو کم مقدار میں پیٹرول سپلائی کرنے کو کہا جس کے نتیجے میں لوگوں میں حالات کے حوالے سے مزید شکوک و شبہات نے جنم لیا۔ اس دوران گزشتہ کئی دنوں سے صارفین کو پیٹرول کی عدم دستیابی کا سامنا درپیش ہے۔ اس دوران صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے پیٹرول کی کمی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صارفین کو ہی بنیاد ی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ صارفین پیٹرول کا زخیرہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس دوران شہر و گام اب افواہیں گشت کررہی ہے کہ وادی میں پیٹرول سپلائی وافر مقدار میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قلت کو دور کیا گیا ہے تاہم لوگ پیٹرول کو بڑی مقدار میں خریدرہے ہیں جس کے نتیجے میں صارفین نے خود ہی مشکلات پید اکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ”سب ٹھیک ہے، لیکن لوگ زبردستی زیادہ زیادہ پیٹرول لیتے ہیں“۔ ہم ایسے میں کیا کرسکتے ہیں؟ ورنہ تو سپلائی برابر جاری ہے۔ ہمارے پاس پولٹری اور دیگر اشیائے ضروریہ وافر مقدار میں جوجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ 244پیٹرول ٹینکروادی وارد ہوچکے ہیں۔ ”فضول میں لوگ زیادہ لے رہے ہیں“۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔فی الوقت کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ صورتحال معمول پر آگئی ہے۔ادھر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کئے جارہے دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ شہر سرینگر سمیت دیگر مضافات میں پیٹرل پمپ خالی پڑے ہوئے ہیں جہاں سے صارفین کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑرہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں