لیہہ اور گرکل میں انتظامی اُمور کو ففٹی ففٹی بنیادوں پرچلانے کیلئے کمیٹی تشکیل: گورنر، جموں میں سیاسی پارٹیوں اور عوام کا مشترکہ احتجاج، مطالبات کو پورا کرنے پر دیا زور

سرینگر/ کے این ایس /لداخ کو صوبے کا درجہ دئے جانے کے بعد وہاں صوبائی ہیڈکوارٹر کے قیام سے متعلق اُٹھے تنازعے کو حل کرنے کی خاطر ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے کرگل کے عوام کو جائز حق فراہم کرنے کی خاطر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گی۔ ادھر جموں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈارن اورلوگوں کی بڑی تعداد نے اپنی جائز مانگوں کو حل کرنے کی خاطر احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے ریاستی انتظامیہ پر واضح کردیا کہ جب تک نہ کرگلی عوام کے جائز مطالبات پورے ہوں گے تب تک عوام کی متحدہ جدوجہد جاری رہے گی۔ لداخ کو صوبے کا درجہ دئے جانے کے بعد وہاں صوبائی ہیڈکوارٹر کے قیام/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 سے متعلق اُٹھے تنازعے کا سد باب کرنے کی خاطر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کرگل کے عوام کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گی۔ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ریاسی کے کٹرہ علاقے میں ایک تقریب کے موقعے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کو صوبہ بنائے جانے کی مانگ کافی برسوں میں جاری تھی۔ اس سلسلے میں ہم نے کمیٹی آف سیکرٹریز تشکیل دی ہے جو وہاں کے عوام کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔خیال رہے لداخ کو صوبہ بنائے جانے کے بعد لیہہ اور کرگل کے درمیان ایک نیا محاذ قائم ہوا جس کے مطابق دونوں اضلاع کے عوام نے جموں اور کشمیر کے طرز پر چھ چھ ماہ کے لیے دفاتروں کی منتقلی کی مانگ کی ہے۔ادھر جموں میں قیام پذیر لداخی عوام نے سوموار کو جموں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالتے ہوئے ریاستی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ نو تشکیل شدہ صوبے کے عوام کی مانگوں پر کان دھرے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوموار کو جموں میں قیام پذیر کرگل کے رہائشی جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی نے احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے کرگل اور لیہہ کے لیے مساویانہ طرز پر انتظامی اُمور کو چلانے کا مطالبہ کیا ۔ معلوم ہو اکہ احتجاج میں شامل لوگوں نے اس موقعے پر اپنی جائز مانگوں کو پورا کرنے کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔احتجاجی لوگوں کا کہنا تھا کہ ریاستی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لیہہ اور کرگل میں صوبائی ہیڈکوارٹروں کو مساویانہ بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کریں۔خیال رہے کہ8جنوری کو ریاستی انتظامیہ نے لداخ کو صوبے کا درجہ دیا تھا۔ اس حوالے سے ایک حکم نامہ بھی جاری کیا گیا جس میں صوبے کے انتظامی و مالیاتی اُمور سے متعلق ہیڈکوارٹر لییہ میں قائم کیا جائے گا تاہم کرگل کے عوام اور ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے اسے کرگل عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ۔پارٹی وابستگیوں سے پرے ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس نے ایک ہی صفحے پر جمع ہوکر عوامی ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ادھرلیہہ کو ہیڈکوارٹر بنائے جانے پر اتوار کو کرگل میں عوام نے متعدد احتجاجی ریلیاں نکالتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کرگل کو اس حوالے سے ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔ادھر ریاسی میں تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک نے ایک سوال کہ ’کیا کسی دوسرے خطے کو بھی صوبے کا درجہ دیا جارہا ہے‘ پر نفی میں جواب دیا۔خیال رہے علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں بشمول نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے گورنر انتظامیہ کی جانب سے لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے بعد خطہ پیر پنچال اور چناب کو بھی صوبائیت میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر سوموار کو جموں میںلوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈران شامل تھے نے کربلا کمپلکس میں جمع ہوکر احتجاجی ریلی نکالی جو وزارت روڑ سے ہوتے ہوئے پریس کلب جموں میں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی ۔ احتجاج میں شامل لوگوں کا مطالبہ تھا کہ لیہہ اور کرگل میں انتظامی اُمور کو مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جانا چاہیے۔ریلی میں چیرمین قانون ساز کونسل حاجی عنایت علی، چیف ایکزکیوٹیو کونسلر لداخ خودمختار ہل ترقیاتی کونسل کرگل فیروز خان، سابق وزیر قمر علی آخون، اصغر کربلائی، نثار علی اور سابق ممبر پارلیمان حسن خان شامل تھے۔ اس موقعے پر ریلی میں شامل لیڈران نے پریس کلب جموں میں مارچ سے خطابات کئے اور اس بات کا عہد کیا کہ جب تک نہ ریاستی حکومت کرگل کے عوام کی جائز مانگوں کو پورا کرتی ہے تب تک متحدہ جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں