کیلم کولگام جھڑپ، جاں بحق جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کولگام میں تعزیتی ہڑتال سے زندگی متاثر، ضلع بھر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات

سرینگر/ یو پی آئی /کیلم کولگام جھڑپ میں جاں بحق عسکریت پسندوں کی سوموار کے روز آخری رسومات ادا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ زنگلپورہ کولگام میں اسکالر کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ عسکریت پسندوں کی یاد میں کولگام ضلع میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکررہ گئیں۔ اتوار کے روز کیلم کولگام جھڑپ میں جاں بحق پانچ عسکریت پسندوں میں سے تین کی سوموار کے روز آخری رسومات ادا کی گئی ۔ نمائندے کے مطابق زنگلپورہ کولگام میں مقامی عسکریت پسند عاقب نذیر کی نماز جنازہ میں لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ جاں بحق جنگجو کی کئی مرتبہ آخری نماز جنازہ ادا کی گئی جس /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے شرکت کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ پلوامہ ، کولگام اور شوپیاں اضلاع سے آئے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے زنگلپورہ کولگام میں مقامی جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔معلوم ہوا ہے کہ نماز جنازہ کی ادائیگی کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرئے کئے۔ ادھر ضلع کولگام میں پانچ عسکریت پسندوں کی یاد میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکررہ گئیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ کیلم دیوسر علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو ا پی ایچ ڈی اسکالر مئی 2018میںفورسز فائرنگ سے دوست کے جاں بحق ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو ا اور محض دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق وسیم بشیر راتھر ولد بشیر احمد راتھر ساکنہ عشموجی کولگام کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کر رہا تھا اور مئی2018میں گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر وسیم کی بندوق کے ساتھ تصویر وائرل ہو گئی جس میں انہوں نے عسکری صف حزب المجاہدین میں شمولیت کی تصدیق کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ عادل احمد اور وسیم بشیر دو قریبی ساتھی تھے اور عادل سی آر پی ایف میں تعینات ہونے کے بعد انہوں نے نوکری کو خیر آباد کہہ دیا جس کے بعد عادل نے مقامی اسکول میں بطور استاد کام کر نا شروع کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مئی 2018میں حزب کمانڈر صدام پڈر اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد فورسز کی فائرنگ سے چار نوجوان بھی جاں بحق ہو گئے جن میں وسیم بشیر کا قریبی دوست عادل بھی تھا۔ مانا جاتا ہے کہ عادل کے نماز جنازہ میں شمولیت کے بعد وسیم بشیر گھر سے لاپتہ ہو گیا جس کے بعد اگرچہ اسکو گھر والوں نے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے جبکہ انہوں نے پولیس میں بھی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اہل خانہ اس وقت حیران رہ گئے جب وسیم کی بندوق کیساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اس بات سے تصدیق ہوئی کہ انہوں نے عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی۔ دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد وسیم اپنے چار ساتھیوں سمیت اتوار کے روز کیلم کولگام میں ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں