وزیراعظم کے کہنے اور کرنے میں واضح فرق دعوئوں پر ترقی نہیں ہوتی، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بجائے بیلٹ پیپروں کا استعمال لازمی :ڈاکٹر فاروق

سرینگر/ اے پی آئی /بھارتیہ جنتا پارٹی کے کہنے اور کر نے میںکافی فرق ہے نیشنل کانفر نس کئے صدر نے الیکٹرانک ووٹنگ میشنوں پر پھرسوالات کھڑے کرتے ہوئے اسمبلی اور پارلیمنٹ الیکشن کے دوران بیلٹ پیپراستعمال کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیاکواس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تا کہ حز ب اختلاف کو جن خدشات کاسا منا ہے وہ دور ہوسکیں ۔عشرت زرگر کے مطابق نیشنل کانفر نس کے صدر ریاست کے سابق وزیراعلیٰ موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں تلنگا نہ کے وزیراعلیٰ چندر با با نائیڈو کے ساتھ یکجہتی کے مو قعے پر خطاب کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی اور تنقید کانشا نہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگا نہ کے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ حز ب اختلاف کی تمام سیاسی پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں اور انہیں ہرطرح کی حمایت دینے کیلئے تیار ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے وہ صرف یقین دلاتے ہیں اور عملی اقدامات اٹھا نا ان کی بس کی بات نہیں ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ سنگ بنیاد رکھنے سے پروجیکٹ مکمل نہیں ہوا کرتے ہیں اور اعداد شمار ظا(رض)ہرکرنے سے ملک ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا ہے ۔نیشنل کانفر نس کے صدر نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوںکے بدلے بیلٹ پیپروں کا اسمبلی اور پارلیمنٹ الیکشن کے دوران استعمال کرنے کے اپنے مطالبے کو دہرا تے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن آ ف انڈیاکو اس بارے میٰں سنجیدگی کامظاہراہ کرنا ہوگا تا کہ حز ب اختلاف کی پارٹیوںکو جن خدشات کا سامنا ہے وہ دور ہوسکیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں