دفعہ 35Aکی سماعت کوریاستی سرکار نے مؤخر کرنے کا کیا مطالبہ عوام کی نمائندہ حکومت کے معرض وجود میں آنے تک سماعت سے گریز کیا جائے

سرینگر/ کے این ایس /ریاستی سرکاری نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت دفعہ 35Aکی شنوائی کو مؤخر کرنے کی مانگ کی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاست کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے ایڈوکیٹ شعیب عالم نے رجسٹرار آف سپریم کورٹ کے سامنے عرضی دائر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں فی الوقت کوئی بھی عوامی حکومت موجود نہیں ہے اورریاست براہ راست صدارتی راج کے تحت معاملات چلارہی ہے لہٰذا جب تک نہ عوام کی نمائندہ حکومت معرض وجود میں آجاتی ہے تب تک کیس کی سماعت کو مؤخر کیا جائے۔ ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس دفعہ 35Aکی شنوائی کو مؤخر کرنے کی مانگ کی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کیس کی سماعت 12فروری سے 14فروری کے درمیان طے ہے، جس کے بعد ریاست کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے ایڈوکیٹ شعیب عالم نے رجسٹرار آف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کیس کو عوامی حکومت کی فراہمی تک مؤخر کرنے کی مانگ کی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ 12تا 14فروری تک کسی بھی وقت سپریم کورٹ کا ڈیوژن بنچ کیس کی سماعت کرسکتا ہے تاہم اس دوران ریاستی/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 حکومت نے ریاست میں عوامی حکومت کی غیر موجودگی اور یہاں صدر راج کے نفاذ کے باعث کیس کی سماعت کو مؤخر کرنے کی مانگ کی۔ ایڈوکیٹ شعیب عالم کی طرف سے دائر کی گئی عرضی میں بتایا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں عوامی حکومت کی غیر موجودگی اور یہاں صدر راج کے نفاذ کے باعث کیس کو مؤخر کیا جائے۔عرضی میں بتایا گیا ہے کہ ریاست کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے جس کو پیش نظر رکھا جاناچاہیے۔ عرضی میں سپریم کورٹ کے ڈیوژن بنچ سے اپیل کی گئی ہے کہ جب تک نہ ریاست میں عوام کی نمائندہ حکومت معرض وجود میں آتی ہے تب تک کیس کی سماعت سے گریز کیا جائے۔خیال رہے ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35Aسنہ 1954میں صدارتی حکم نامے کے بعد ملک کے آئین میں درج کی گئی ہے جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو خصوصی رعایت کا حق واگزار ہوجاتا ہے اور اس طرح دفعہ کے اطلاق سے ہر وہ خاتون جو غیر ریاستی شہری کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بند جائے ، حق وراثت سے محروم ہوجاتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں