مزاحمتی خیمے یاموجودہ مین اسٹریم جماعتوں میں شامل ہونے کامنصوبہ نہیں کشمیرکیلئے پوری زندگی وقف: شاہ فیصل، میرواعظ عمرفاروق کامشکور،عمرعبداللہ کاممنون :آئندہ لائحہ عمل ابھی طے نہیں کیا

سرینگر/ کے این ایس /کشمیر میں ہلاکتوں اور ملک میں عدم برداشت و مسلم مخالف نفرت انگیزی کے خلاف بطور احتجاج بیورو کریسی کو خیر باد کہنے والے کشمیری آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے جمعہ کے روز یہ واضح کر دیا کہ وہ نہ تو کسی حریت پسند جماعت اور نہ ریاست میں سرگرم موجودہ کسی مین اسٹریم سیاسی پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں ۔ مجوزہ مذاکرہ یا کانفرنس کو ملتوی کئے جانے کے بعد جمعہ کے روز شہر میں واقع ایک ہوٹل میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 35 سالہ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ انہیں مزاحمتی لیڈران کی طرف سے پیشکش کی گئی تھی ۔ انہوں نے اس حوالے سے میرواعظ عمر فاروق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھے مزاحمتی خیمے میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی لیکن مجھے کچھ اچھی تجاویز اور مشورے دئیے لیکن بقول ڈاکٹر شاہ فیصل وہ اس بنائ پر کسی حریت پسند جماعت میں شامل نہیں ہونگے کیونکہ ایسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں سسٹم میں رہ کر کشمیریوں کیلئے جدوجہد کرنا چاہتا ہوں اور اسی بنائ پر میں انتخابی عمل میں شامل ہو رہا ہوں ۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ وہ عمر عبداللہ کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً ان کی حوصکلہ افزائی کی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ نیشنل کانفرنس یا ریاست میں سرگرم کسی دوسری مین اسٹریم سیاسی پارٹی میں بھی شامل نہیں ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کوئی نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا مبہم انداز میں اشارہ دیتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مشاورت کرکے اور مدبر لوگوں سے مشورے لے کر آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے ۔ بیوروکریسی کو خیر باد کہہ دینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی جانب سے ایک احتجاج کرتے ہوئے بیوروکریسی چھوڑ دی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر اور کشمیریوں کے تئیں اپنے فرائض صحیح طور پر انجام نہیں دے پارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہلاکتوں کے سلسلہ جاری ہے اور ملک بھر میں مسلم مخالف/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 نفرت انگیزی اور عدم برداشت کا رجحان بے لگام رہا ہے اور میں ایسی صورتحال کو کسی بھی صورت میں پسند یا قبول نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے پھر کہا کہ میں نے کشمیریوں پر ڈھائے جائے وانے مظالم اور ملک میں جاری عدم برداشت کی صورتحال کے خلاف بطور احتجاج اپنا عہدہ چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں مرکزی سرکار کا رویہ ٹھیک نہیں رہا ہے کیونکہ کشمیریوں کو جینے کا حق بھی نہیں دیا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ کشمیریوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے لیکن یہاں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات اور مسلم مخالف نفرت انگیزی کے ساتھ ساتھ سی بی آئی اور این ائی اے جیسے اداروں کو بھی سیاسی انتقام گیری اور دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لایا گی اور مجھ سے یہ چیزیں برداشت نہیں ہوئیں ۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ کشمیریوں پنڈتوں کی وادی واپسی کو ممکن بنایا جانا چاہئے لیکن موجودہ مرکزی حکومت نے اس حوالے سے اب تک صرف زبانی جمع خرچ کیا ۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت کے دور میں ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی آئینی پوزیشن اور ریاستی عوام کو حاصل منفرد شہری حیثیت پر کاری ضرب لگانے کا رجحان بڑھا اور اسی بنائ پر دفعہ 370 اور 35 اے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کی حفاظت لازمی ہے کیونکہ یہ آئینی دفعات جموںوکشمیر اور انڈین یونین کے درمیان ایک معاہدہ ہے جو قائم رہنا چاہئے ۔ ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والے نامور آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی پوری زندگی کشمیر کیلئے وقف رکھنا چاہتا ہوں لیکن سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے سے پہلے میں خود کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں اور بقول موصوف اس حوالے سے کشمیری نوجوانوں کی رائے اور مدبر لوگوں کی آرا میرے لئے مقدم ہوگی ۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ آنے والے اسمبلی یا پارلیمانی انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیں گے ، ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ میں اس حوالے سے سماج کے مختلف حلقوں سے رائے لینے کے بعد فیصلہ لوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کے روز میں نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ہے جس میں شامل لوگ اپنی رائے آزادانہ طور پر سامنے رکھ سکتے ہیں اور لوگوں کی اسی رائے یا آرا کے بعد میں اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا ۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ رائے اور مشورے لینے کے بعد میں فیصلہ کروں گا کہ مجھے آگے کیا کرنا چاہئے تاہم انہوں نے کہا کہ میں تعلیم یافتہ ہوں اور ممبر اسمبلی یا ممبر پارلیمنٹ بننے کا اہل بھی ہوں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں