سرینگر -جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحرکت میں باربار خلل  700مسافرومال بردار چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ

سرینگر/ کے این این /چلہ کلان کی40روزہ مدت میں دوسرے مرحلے کی برفباری کے دوران پیر پنچال کے آر پار ایک مرتبہ پہاڑوں نے سفید چادر اُوڑھ لی جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کے ساتھ ساتھ ہلکی برفباری ہوئی ۔برفباری کے سبب سرینگر ۔جموں شاہراہ پر پھسلن پیدا ہونے کی وجہ سے شاہراہ ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 احتیاطی اقدامات کے تحت بند کردی گئی جبکہ ٹنل کے آر پار قریب700مسافر ومال بردار چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہیں ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے24گھنٹوں کے دوران مزید برفباری متوقع ہے ۔جمعرات کی شام سے پیر پنچال کے آر پار شروع ہوا تازہ برفباری وبارشوں کا سلسلہ جمعہ کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہا ۔تازہ برفباری کے سبب سرینگر ۔جموں شاہراہ بھی بند ہوگئی ۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو پیر پنچال کے آر پار پہاڑی وبالائی علاقوں میں درمیانہ درجہ کی برفباری ہوئی جبکہ کشمیر کے میدانی علاقوں میں بارشوں کے ساتھ ساتھ ہلکی برفباری بھی ہوئی ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق ریاست کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں جمعہ کی صبح ساڑھے8بجے تک 5.6ایم ایم برفباری ریکارڈ کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے مشہور ومعروف صحت افزائ مقام اور امرناتھ یاترا کے بیس کیمپ پہلگام میں 11.4ایم ایم برفباری درج کی جبکہ شہرہ آفاق سکی ریزاٹ گلمرگ میں صبح ساڑھے8بجے تک 3.4ایم ایم برفباری ریکارڈ کی گئی ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کشمیر ، خطہ پیر پنچال اور وادی چناب کے میدانی علاقوں میں بارش کے ساتھ ساتھ بارش کے علاوہ ہلکی برفبار ی بھی ہوئی ۔ادھر اطلاعات کے مطابق جواہر ٹنل علاقہ میں تین انچ برف جمع ہونے اور سڑک پر اس کی وجہ سے پیدا ہوئی پھسلن کو دیکھتے ہوئے سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی روانی نصف شب سے معطل ہے۔ٹریفک حکام کے مطابق شاہراہ پر ٹریفک کی روانی کو احتیاطی اقدامات کے تحت روک دیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوگئی ،لہٰذا لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ٹریفک کنٹرول روم کے مطابق کئی خدشات کے سبب شاہراہ بند کردی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ موسم میں بہتری آنے کے بعد ہی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال کردی جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ بیکن حکام شاہراہ کو قابل آمد ورفت بنانے کیلئے برف ہٹانے کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ شاہراہ بند ہونے کے سبب ٹنل کے آر پار 700مسافر ومال بردار چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہیں ۔تاہم سرینگر ائر پورٹ پر پروازوں میں کوئی خلل نہیں پڑا ۔ائر پورٹ حکام کے مطابق تمام پروازوںنے معمول کے مطابق اُڑان بھری۔محکمہ موسمیات نے درجہ حرارت کے حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی ،اُنکے مطابق ریاست کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔قاضی گنڈ گیٹ وے آف کشمیر میں منفی1.2ڈگری سیلشیس درج کیا گیا جبکہ جنوبی کشمیر کے معروف ترین سیاحتی مقام کوکرناگ میں یہ درجہ حرارت منفی2.2ڈگری سیلشیس درج کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ سرحدی ضلع کپوارہ قصبہ میں یہ درجہ حرارت منفی0.6ڈگری درج کیا گیا ۔کشمیر وادی کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی7.5ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔پہگام میں یہ درجہ حرارت منفی3درج کیا گیا ،جہاں گزشتہ رات کا درجہ حرارت منفی11.4ڈگری درج کیا گیا تھا ۔خطہ لداخ کے لہیہ قصبہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.5ڈگری جبکہ دراس قصبہ میں یہ درجہ حرارت منفی15.2ڈگری درج کیا گیا ،دراس جموں وکشمیر وادی علاقہ ہے ،جہاں شبانہ درجہ حرارت سب کم درج کیا گیا ۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے24گھنٹوں کے دوران مطلع ابر وآلود رہے گا جبکہ ہلکی برفباری کا بھی امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتوار سے موسم میں بہتری متوقع ہے ۔کشمیر وادی میں اس وقت چلہ کلان کی40روزہ مدت جاری ہے ،جوکہ31جنوری کو ختم ہوگی ۔اس عرصے کے دوران وادی میں درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور برفباری کے زیادہ امکانات رہتے ہیں ۔تاہم اسکے بعد سردی کی لہر جاری رہے گی ،کیونکہ چلہ خرد کے20دن اور چلہ بچہ کے10دن ہوتے ہیں ۔ان ایام کے دوران سردی کے ساتھ ساتھ برفباری بھی ہوتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں