نوٹ بندی کے برُے اثرات اب بھارت میں دکھائی دینے لگے ہیں پورا معاشی نظام درہم برہم اور ہرفرد متاثر ہوچکا ہے :ڈاکٹر منموہن سنگھ

نئی دہلی/ سابق وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت کو اب ایسا کوئی اقتصادی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے معیشت کو لے کر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نوٹ بندی کے دو سال پورے ہونے کے موقع پر جمعرات کو نریندر مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ معیشت کی "تباہی 'والے اس قدم کا اثر اب واضح ہو چکا ہے اور اس سے ملک کا ہر فرد متاثر ہوا۔منموہن سنگھ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو اب ایسا کوئی اقتصادی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے معیشت کو لے کر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے کہا، 'نریندر مودی حکومت نے 2016 میں غور کئے بغیر نوٹ بندی کا قدم اٹھایا تھا۔ آج دو سال گزر چکے ہیں۔ بھارتی معیشت اور معاشرے کے ساتھ کی گئی اس تباہی کا اثر اب سبھی کے سامنے صاف ہے۔ معروف ماہر اقتصادیات نے کہا، "نوٹ بندی سے ہر ایک شخص متاثر ہوا خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہو، کسی بھی ضمنی گروپ کا ہو، /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کسی مذہب کا ہو، کسی پیشہ کا ہو۔ اس نے سب کو متاثر کیا ہے۔ ' انہوں نے کہا کہ ملک کے متوسط اور چھوٹے کاروبار اب بھی نوٹ بندی کی مار سے ابھر نہیں پائے ہیں۔بتا دیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر2016 سولہ کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ان دنوں چل رہے 500 روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ چلن سے باہر ہو گئے تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں