بی جے پی روپے پیسے کے بل بوتے پر چند افراد کا ایمان خرید سکتی ہے لیکن سب لوگ بکاو نہیں کشمیری عوام کا بھروسہ جیتنے کیلئے دفعہ 370کے تحت ریاست کو حاصل مراعات بحال کئے جائیں :ڈاکٹر فاروق

سرینگر/بی جے پی آج اُسی طرح یہاں پیسے پھینک رہی ہے جیسے ماضی میں کانگریس پھینکتی تھی، یہ لوگ چندافراد کا ایمان پیسوں سے خرید سکتے ہیں لیکن سب کا ایمان بکائو نہیں ہوتا،آج کل نت نئی جماعتیں بھاجپا کے پیسوں کی بنا پر اچھل کود کررہی ہیں لیکن یہ سب زیادہ دیر چلنے والا نہیں، ہم نے ماضی میں بھی اس قسم حالات و واقعات دیکھے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اوڑی میں پارٹی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈر و ایم ایل اے محمد شفیع اوڑی، ضلع صدر بارہمولہ جاوید احمد ڈار، ضلع سکریٹری غلام حسن راہی، پارٹی لیڈر ڈاکٹر سجاد اوڑی،ضلع صدر خواتین ونگ نیلوفر مسعود ، ایڈوکیٹ شاہد علی، یوتھ ضلع صدر بارہمولہ میر منیر بھی موجود تھی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ماضی میں بڑے بڑے طوفانوں کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ سرخرو ہوکر سامنے آئی ہے ، مستقبل میں بھی مشکلات آئیں گے اور اللہ کے فضل و کرم اور عوامی اشتراک سے ہم ان کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ شیر کشمیرکو جن لوگوں نے دھوکہ دیا اُن کا آج کوئی نام لینے والا بھی نہیں، مستقبل میں بھی دھوکے باز اور غدار نکلیں گے لیکن جماعت اپنے مشن کی اور رواں دواں رہے گی۔موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظلم و ستم کا یہ دور بھی نہیں رہے گا، اس کا بھی انجام جلد ہوگا لیکن اپنے وقت پر ، وہ وقت جو اللہ نے مقرر کیا ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’بچپن میں مجھے لوگ چڑھاتے تھے کہ آپ کے والد بے وقوف ہیں، کیا کبھی مہاراجہ کو ہرایا جاسکتا ہے؟ کیا مہاراجہ کبھی نکلیں گے؟ اور میں یہ سب چھپ کے سے جاکر اپنی ماں کو روتے ہوئے سناتا تھا،پھر خدا کا کرنا دیکھئے ایک دن ہم شام کو سوئے اور اگلے روز مہاراجہ کا یہاں کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اس وقت جن مشکلات/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کا سامنا ہے وہ بھی ختم ہوجائیں گی۔مشکلات سے کبھی کبھی مایوسی آجاتی ہے لیکن ہمیں چیلنجوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔نئی دلی اور اسلام آباد پر مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈ نکالنے کیلئے زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ اس دیرینہ مسئلہ کو سلجھانے کیلئے ایک با معنی ، ٹھوس اور بے لوث مذاکراتی عمل شروع کیا جانا چاہئے تاکہ آر پار جموں وکشمیر کے عوام کو ہمیشہ کیلئے مصائب اور مشکلات سے نجات مل سکے۔ کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ہماری ریاست کی خودمختاری کو جتنا نقصان کانگریس نے پہنچایاہے اُتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے 9اگست 1953کو شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طوربحیثیت وزیر اعظم فوج کے بلبوتے پر گرفتار کروا کے ریاست کو بے چینی کی نذر کردیا۔ اس کے بعد کانگریس نے یہاں کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ریاست کو اندرونی خودمختاری کے تحت حاصل مراعات کو ایک ایک کرکے ختم کردیا۔ کانگریس کی ان غلطیوں کا خمیازہ آج تک یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزکو اہل ریاست کا اعتماد اور بھروسہ جیتنے کرنے کیلئے جموںوکشمیر کو دفعہ370کے تحت حاصل خصوصی مراعات کو بحال کرنا چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں