بھارت کیساتھ تعلقات مستحکم کرنا اولین ترجیح :عمران خان، چین کیساتھ دوستی بھارت کیلئے خطرہ نہیں ایک سبق ہے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کا فارمولہ گھاٹے کا سودا رہا ہے

اسلام آباد/ پڑوسی ملک بھارت کیساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے وزیراعظم عمرا ن خان نے آج ایک مرتبہ پھر کہاکہ پاکستان مسائل کو حل کرنے کیلئے پڑوسی ملک کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے تاہم انہوںنے چین کو مضبوط دوست قرار دیتے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ہوئے کہا کہ چین کیساتھ دوستی پڑوسی ملک بھارت کیلئے خطرہ نہیں بلکہ سبق ہے ۔ عمران خان نے عوام سے خطاب کے دوران ہندوپاک تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت بھارت کے اندر الیکشن کی مہم چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مذاکرات آگے بڑھنے میں دشواریاں آرہی ہیں تاہم انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کیساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے ہر طرح کے مذاکرات کیلئے تیار ہے اور ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان اگر تنازعات پر بھی بات چیت کرنے کیلئے بھارت تیار ہوجائے تو پاکستان اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ بات چیت کو آگے بڑھایا جائے ۔ عمران خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کسی بھی طور پر بہتر فارمولا نہیں کیونکہ اسے دونوں ممالک کے سرحدی لوگ مارے جاتے ہیں اور تجارت بھی مفلوج ہوجاتی ہے لہذا ہمیں دوستی کو ہی ترجیح دینا ہوگی ۔انہوںنے بلوچستان کے حوالے سے کہاکہ جب ہم بلوچستان کو آگے بڑھائیں گے تو پورا ملک آگے بڑھے گا لہذا سی پیک معاہدہ اسلئے تجویز پایا گیا اورا س پر پاکستان نے اتفاق بھی کیا ۔تاہم پاک چین دوستی کو پائیدار قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔وزیراعظم عمران خان سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر دفاع پرویز خٹک اور دیگر اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی بھی شریک تھے۔وزیراعظم اور شرکا کے درمیان خیبر پختونخوا کے ترقیاتی کاموں سے متعلق بات چیت ہوئی اور بلدیاتی نظام سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے خیبر پختونخوا میں گورننس سے متعلق بھی دریافت کیا۔ عمران خان نے ارکان قومی اسمبلی کو گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ایوان میں زیر بحث لانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے دورہ چین سے متعلق بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا اور شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم معاشی پیکجز دے گا، دورہ چین میں رشکئی میں صنعتی زون کو جلد آپریشنل کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان سے قبائلی علاقہ جات کے دو ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے بھی ملاقات کی جس میں فاٹا کے مسائل پر بات کی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا میں گڈ گورننس کو یقینی بنائیں گے، قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام حکومت کی اولین ترجیح ہے، فاٹا کے رہائشیوں کو تمام حقوق فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نوجوانوں کو ان کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم پراکسی وار کی نذر ہو رہے ہیں یمن اور شام اس سے متاثر ہیں۔سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک کے جو منصوبے جاری تھے وہ جاری رہیں گے، بس ان کو نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے، آج جس جگہ پاکستان کھڑا ہے ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ کون ذمے دار ہے، ہم پراکسی وار کی نذر ہو رہے ہیں یمن اور شام اس سے متاثر ہیں، ملک کی موجودہ صورت حال پر سب کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بد قسمتی سے یمن میں جنگ کی کیفیت ہے خون خرابہ ہو رہا ہے ملک تقسیم ہو چکا ہے، فضائی حملے بھی ہو رہے ہیں، میڈیکل اور خوراک کے خطرناک حد تک مسائل درپیش ہیں، پاکستان کی صورتحال بہت نازک ہے سعودی عرب سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور ایران ہمارا ہمسایہ ہے ایسی صورت میں ہمیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے، ہمارا فیصلہ رہا کہ دونوں ہمارے برادر ملک ہیں ہم اس جنگ میں حصے دار نہیں بن سکتے ، پاکستان اور عمران خان اس پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مدد کرنے میں ایک پیکج دیا، یہ پیکج کسی شرائط کے بدلے میں نہیں ملے، ہماری جانب سے کوئی ایسا وعدہ نہیں ہوا جو چھپایا جا رہا ہے، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور رہیں گے، لیکن کچھ عرصے سے سرد مہری تھی، اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ۵۱۰۲ میں ایسے واقعات رونما ہوئے جو خلا کا باعث بنے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں