آیلپاین ایڈونیچرس کے نامور ٹریکنگ انسٹریکٹر عادل شاہ کو  اعلیٰ قومی سپورٹس ایوارڈ دیا جائے

آیلپاین ایڈونیچرس کے شہرت یافتہ ٹریکنگ انسٹریکڑ عادل شاہ کو لہائی چوٹی سر کرنے کے بعد حال ہی میں ایک ٹریکنگ گروپ کی نگرانی کرتے ہوئےGlacierپر قدرتی ہولناک آفات کے شکار ہوئے اُن کیساتھKASآفیسر نوید جیلانی کے علاوہ7ٹریکر س بھی اس مہم میں شرکت کر رہے تھے لیکن نوید جیلانی نے بھی اس قدرتی آفات میں موت کو اپنے گلے لگالیا۔ عادل شاہ نے تقریباً150ٹریکنگ Expeditionsکو آج تک کامیابی سے سر انجام دیا ہے اور اُونچی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کے بعد اپنا جھنڈا لہرایا۔ اور ہزاروں نوجوانوں ٹریکر س کو ٹریننگ فراہم کر کے اپنے ناقابل فراموش کارناموں کو سر انجام دیا۔ عادل شاہ 7نوجوان ٹریکرس کو بچاتے ہوئے اپنی ہی زند گی کو گنوا بیٹھے ۔ اُنہوں نے کئی دن پہلے اس ٹریکنگ مہم کا آغاز پہلگام ۔ آڑو، لِدروٹ سے ہوتے ہوئے کولہائی کی چوٹی پر کامیابی کا جھنڈا گارڈ دیا۔ یہ اُن کی زند گی کی آخری ٹریکنگ مہم ثابت ہو ئی اسکے بعد اُنھیں چین جانے کا دعوت نامہ بھی موصول ہوا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ کی مرضی کے سامنے انسان بے بس نظر آتا ہے ۔ اس طرح وہ مجھ جیسے ماماجی کو چھوڑکر اس دنیائے فانی کو لبیک کہہ گئے۔ اور موت نے اُ نھیں زند گی کا خواب ادُھورا چھوڑ نے پر مجبور کر دیا۔ پروفیسر مشتاق احمد شاہ کا گھر کا چراغ اپنی ٹیکنیکل صلاحیتوں کا مالک تھا جس نے اپنی ذہانت، قوت برداشت سے ہزاروں ٹریکڑس کا دل جیت لیا تھا۔ وہ واقعی سپورٹس کے میدان میں قوم کا درخشندہ ستار ہ ثابت تھے۔ وہ ایک خاموش طبیعت، مستقل مزاج اور ذہین نوجوان ٹریکر تھے اور اسی پیشے کو اپنا لیا۔ اُن میں زبردست وِل پاور، اعتماد اور محنت و مشقت کا جذ بہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایسے ٹریکرس سماج میں کھبی کبھی جنم لیتے ہیں۔آزادبستی نٹی پورہ گرین لین کا یہ درخشندہ ستارے کی جسد خاکی جوں ہی آبائی گھر لائی گئی تو ہزاروں لوگوں میں صف ماتم چھاگیا اور نہ ختم ہونے والا کہرام مچ گیا۔ ہزاروں عورتیں اس چشم وچراغ دلہے کیلئے اپنی پرنم آنکھوں سے ہمشیہ کیلئے وداعی کہنے لگیں۔ آیلپاین ایڈونیچرس کا یہ نامور ٹریکنگ انسٹریکٹر کو کئی نوجوانوں سے دوستانہ تعلقات قائیم تھے۔ جو اُسے یہ پروگرام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ ٹریکڑس کو اُونچی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کے دوران اُن کے ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔ اُن میں ہمت، قوت، اور مشکلات کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت اور جوانمردی کا جذبہ موجود تھا۔ اور اپنے جنت کشمیر کی خاطر بڑے کار نامے سرانجام دینا چاہتے تھے۔بحثیت سابقہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ، سپورٹس رائٹر اور فٹ بال کوچ امر سنگھ کالج میں گورنر ا صاحب اور ڈائریکٹر ٹورزم سے ہزاروں ٹریکرس کی طرف سے پُر زور مطالبہ اور سفارش کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم کوہ پیما اور نامور ٹریکنگ انسٹریکٹر کو قومی پسورٹس ایوارڈ عطا کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر ے تاکہ ایک عظیم کوہ پیما اور ٹریکنگ انسٹریکٹر کی مکمل عزت افزائی ہو سکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں