امریکہ کا پی ایل او کا دفتر بند کرنے کا حکم

واشنگٹن/ امریکہ نے واشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ اس نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ ﴿جرائم کی بین الاقومی عدالت﴾ کے خلاف پابندیوں کی دھمکی بھی دی ہے۔ فلسطین کا سفارتی دفتر بند کرنے کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں مدد نہیں کر رہے ہیں جبکہ آئی سی سی کے متعلق اس نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی ادارہ امریکیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف پابندیاں عائد کرے گا۔ واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کی بدسلوکی کے متعلق مقدمہ چلانے پر غور کررہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے امن کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب عریقات نے اس امریکی اقدام کو ’خطرناک بڑھاوا‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرنے والے ہیں لیکن فلسطینی حکام نے ان کے وفد کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ دسمبر میں امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست اور با معنی مذاکرات شروع کرنے کے لیے قدم نہیں اٹھائے ہیں۔‘گذشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطینی رہنما ایسا کرتے رہے تو ان امریکی قوانین کے تحت ان کا دفتر بند کیا جا سکتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں