پنچایتی وبلدیاتی انتخابات مین سٹریم پارٹیوں کا موقف

پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے پی ڈی پی نے کہا کہ چونکہ مرکزی سرکار آرٹیکل 35Aکے بارے میں سنجیدہ نہیں اور نئی دہلی اس بارے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے جس کی بنائ پر پی ڈی پی نے اتفاق رائے سے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔ اس سے قبل نیشنل کانفرنس بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکی ہے اور این سی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس بارے میں مر کزی سرکار فوری طور اپنی پوزیشن واضح نہیں کرے گی تو یہ پارٹی پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرے گی۔ این سی کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کے اعلان کے بعد پی ڈی پی کے بائیکاٹ اعلان سے ان انتخابات کے انعقاد کا معاملہ کچھ ٹھنڈا پڑگیا ہے اگرچہ ریاستی حکومت نے پنچائیتی الیکشن کروانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی قابل ذکر سرگرمی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ۔ محبوبہ مفتی کے اعلان کے ساتھ ہی ریاستی چیف سیکریٹری نے واشگاف طور پر اس بات کا اعلان کردیا کہ پنچایتی انتخابات وقت پر ہونگے اس بارے میں کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی اور پی ڈی پی کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود انتخابات وقت پر ہونگے اور اس بارے میں چیف الیکٹو رل افسر کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر تاریخوں کا تعین کریں اور اگلے ایک ہفتے کے اندر اندر نوٹفکیشن اور الیکشن عمل شروع ہوگا۔ چیف سیکریٹری مسٹر سبھرا منیم نے کہا کہ انتخابات کے عمل کے دوران سیکورٹی کے بھر پور انتظامات کروائے جارہے ہیں اور اس بارے میں کسی کو بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ چیف سیکریٹری نے بتایا کہ وادی میں امن قایم کرنے کی کوششیں برابر جاری ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور پولیس کو حصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہو ں نے کہا عوام کو بہتر ماحول جو الیکشن کے حوالے سے مناسب ہو فراہم کرنے کی کو ششیں کی جارہی ہیں۔ سیکورٹی کا بھر پور انتظام کیا جارہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے ان انتخابات کو غیر پارٹی بنیادوں پر کروانے کا پہلے ہی اعلان کرلیا ہے امیدواروں،ان کے افراد خانہ وغیر کو بھی سیکورٹی فراہم کرنے کے اعلان کے باوجود ابھی تک کسی بھی طرف سے ان انتخابات کے بارے میں کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ادھر پی ڈی پی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا علان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مرکزی حکومت آرٹیکل 35 Aکو بھر پور انداز میں تحفظ فراہم نہیں کرے گی تب تک ان انتخابات میں پی ڈی پی کی طرف سے شر کت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ ان حالات کو مد نظر رکھ کر ریاستی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے ابھی تک اس بارے میں کوئی بھی واضح صورتحال سامنے نہیں آرہی ہے۔ سرکار اس بارے میں اظہار حقیقت سے غالباًکتراتی ہے۔ ریاستی سرکار کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مین سڑیم پارٹیوں کی طرف سے کیونکر انتخابات کا بائیکاٹ کیاجارہا ہے اور بات اگر ریاستی سرکارکے دائیرہ اختیار سے باہر ہے تو انہیں فوری طور مرکزی سرکار سے رابط قایم کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی گورنر انتظامیہ کو ان سیاسی پارٹیو ں کے موقف سے بھی مرکز کو آگاہ کرنا چاہئے جو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے اس بارے میں اختیار کیا ہے ۔مرکز پر یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مین سٹریم پارٹیان بھی آرٹیکل دفعہ 35Aکے بارے میں اتنی ہی سنجیدہ ہیں جتنی علیحدگی پسند پارٹیاں سنجیدہ ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں