کنٹرول لائن پر پاکستان کی اشتعال انگیزی جاری کشمیر میں داعش یا طالبان کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں،فوج صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار:آہیر

سرینگر/الفا نیوز سروس/مرکزی وزارت داخلہ نے واضح کر دیا کہ کشمیر میںداعش یا طالبان کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہ ۔ تاہم مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی اشتعال انگیزی جاری ہے ۔ مرکزی وزرات داخلہ نے واضح کر دیا کہ کشمیر میں القاعدہ یا داعش کی موجودگی کااب تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور محض آئی ایس آئی کے ترنگے لہرانے والے گلیمر کے طور پر یہ جھنڈے لہراتے ہیں ۔امورداخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج آہر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ کشمیر میں کئی ایک جنگجو تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن داعش اور آئی ایس آئی کے بارے میں ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے تاہم مرکزی حکومت نے صورتحال پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس صورتحال میںایک بات طے ہے کہ القاعدہ کی غزوت الہند نامی جماعت کے ذاکر موسی کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ محض کچھ ہی جنگجوہیں ۔انہوںنے کہاکہ ذاکر موسی گروپ سوشل میڈیا پر ہی متحرک ہے اور زمینی سطح پر اس کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے تاہم فوج ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایک پروپگنڈا کیا جارہا ہے کہ کشمیر میں داعش اور طالبان موجود ہیں لیکن کسی بھی طور پر ہماری خفیہ ایجنسیوں اور انٹیلی جنسی ایجنسیوں کے ہوم ورک اور جانچ پڑتال میں کوئی ثبوت یا شواہد نہیں ملے ہیں لہذا ہمیں اس پروپگنڈا مہم کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ بھارت کے اندر بھی داعش یا طالبان جیسی کوئی تنظیم سرگرم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کا مسلمان داعش سے متاثر ہے۔ انہوںنے کہا کہ کئی مقامات پر اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر ملک میں بھی داعش کا کوئی اثر نظر نہیںآرہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی احتیاطی اقدامات اٹھائے جارہے ہیںاور ملک کی انٹیلی جنسی ایجنسی اور این آئی اے اس کی جانچ پڑتال میںلگی ہوئی ہے اور وہ اپنے طور پر کام کررہی ہے جس میں اسے بھی کسی بھی طرح سے داعش کا کوئی عنصر نہیںملا ہے

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں