انجمن شرعی شیعیان کے اعلیٰ سطحی وفد کا ڈویژنل کمشنر کشمیر سے ملاقات 8اور 10 محرم کے تاریخی جلوسوں سے متعلق طے شدہ دیرینہ معاہدے پتھر کی لکیر

سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ڈویژنل کمشنر کشمیر سے ملاقی ہوا۔ وفد نے ڈوژینل کمشنر کشمیر سے8اور 10 محرم کے تاریخی جلوسوں پر 3 دہائیوں سے مسلسل بلاجواز قدغن سے پیدا شدہ صورتحال کو زیر بحث لاتے ہوئے ریاستی انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ اس پابندی کو بلاتاخیر ہٹادیا جائے۔ وفد نے ڈویژنل انتظامیہ پر واضح کیا کہ مذکورہ جلوس ہائے عزا سے متعلق اُس وقت کے حکمرانوں اور شیعیان کشمیر کی نمایندہ دینی قیادت کے درمیان طے پائے معاہدے کی ہر صورت میں پاسداری کی جائے، کیونکہ یہ معاہدے وسیع ترین مشاورت اور تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے پائے ہیں۔8محرم کو گروبازار سرینگر سے بہ راستۂ مولانا آزاد روڑ تا حیدریہ حال ڈلگیٹ علم شریف کا جلوس اور 10ویں محرم کو آبی گزر سرینگر سے بہ راستۂ گاؤکدل، حبہ کدل و راجوری کدل تا علی پارک جڈی بل ذوالجناح شریف کا عظیم الشان جلوس وادی کے تمام طبقہ ہائے فکر سے لوگوں کیلئے فرقہ وارانہ رواداری اور یکسان عقیدت کے حامل ہیں۔ ان جلوسوں کیلئے متبادل راستوں کی تجاویز ناقابل قبول ہیں۔ دریں اثنا ئ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے عامۃ المسلمین سے استدعا کی کہ وہ 8اور 10محرم کے تاریخی جلوسوں میں جوق در جوق شرکت کرکے اتحاد و اخوت ملی کا بھر پور مظاہرہ کریں اور ریاستی انتظامیہ کو واضح پیغام دیں کہ مذکورہ جلوسوں پر لگی قدغن ناقابل برداشت ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں