ہندوارہ معرکے میں 2جنگجو جاں بحق لنگیٹ اور سوپور میں پرُ تشدد جھڑپیں ، کئی زخمی
کپوارہ ، سوپور اور آس پاس کے علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ سہولیات معطل دونوں عسکریت پسند وں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

ہندوارہ / محسن کشمیری / عابد نبی / طارق راتھر/ جے کے این ایس /ہندواڑہ کے گلورا لنگیٹ گائوں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز نے لشکر طیبہ سے وابستہ 2مقامی جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا۔ شمالی کشمیر میں خبر پھیلتے ہی نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سوپور اور ہندواڑہ میں شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ جونہی مقامی جنگجوئوں کی نعشیں اُن کے آبائی گائوں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کوملے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جھڑپ کے دوران مارا گیا ایک عسکریت پسند گزشتہ روز بومئی سوپور میں حرکت کارکن کے قتل میں براہ راست ملوث تھا۔/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دریں اثنا انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہ مولہ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ سہولیات کو منقطع کیا۔ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جونہی گلورا لنگیٹ گائوں کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ گولیوں کا تبادلہ تھم جانے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جھڑپ کی جگہ دو مقامی جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کیں۔ جاں بحق عسکریت پسندوں کی شناخت فرقان رشید لون عرف عادل ساکنہ شاٹھ پورہ لنگیٹ اور لیاقت احمد لون عرف صاحبہ عرف خالد ولد غلام محی الدین ساکنہ ہارون بومئی سوپور کے بطور ہوئی ہے۔ نمائندے کے مطابق سوپور اور ہندواڑہ میں دو مقامی عسکریت پسندوں کو جاں بحق کرنے کی خبر پھیلتے ہی تشدد بھڑک اُٹھا، مشتعل نوجوانوں نے کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ساونڈ شیلوں کا استعمال کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ لنگیٹ ہندواڑہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے نتیجے میں لوگ گھروںمیں سہم کررہ گئے۔ ادھر مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں جونہی اُن کے آبائی گائوں ہندواڑہ اور سوپور پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا اس دوران بارہ مولہ ، سوپور اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے سوپور اور ہندواڑہ کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیںہوئیں جس کے نتیجے میں کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ جاں بحق جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔ لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ عسکریت پسندوں کی کئی مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پولیس چیف نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ہندواڑہ کے گلورا گائوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد حفاظتی عملے نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔ پولیس چیف کے مطابق گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جھڑپ کی جگہ دو مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی ۔ انہوںنے کہا کہ مارے گئے عسکریت پسند پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے اور اُن کی ہلاکت سے شمالی کشمیر میں لشکر طیبہ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ادھر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے ہندواڑہ اور سوپور قصبوں میں انتظامیہ نے امتناعی احکامات نافذ کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں کو نماز جنازہ میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کیلئے اگر چہ سیکورٹی فورسز نے کئی علاقوں سیل کیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی ہزاروں کی تعدا د میں لوگ عسکریت پسندوں کے آبائی گائوں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہلوک عسکریت پسند ایف آئی آر زیر نمبر 271/2016زیر دفعات 148,149,307,436,323آر پی سی ،ایف آئی آر زیر نمبر 334/2016زیردفعات 148,149,307,436,323آر پی سی اور ایف آئی آر زیر نمبر 357/2017زیر دفعہ 120آر پی سی 18یو ایل اے ایکٹ کے تحت پولیس کو مطلوب تھا۔ لیاقت احمد لون عرف صاحبہ عرف عمر خالد ولد غلام محی الدین ساکنہ ہارون سوپور بھی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہی وابستہ تھااور اُس کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجودتھی۔مہلوک دہشت گرد کے خلاف پولیس اسٹیشن بومئی سوپور میں ایف آئی زیر نمبر 45/2016زیر دفعہ 18Bاور 20یو ایل اے ایکٹ کے تحت کیس درج ہے۔ معصوم بچی کو اغوا کرنے کے بعد اُس کی آبروریزی کرنے کے سلسلے میں بھی مہلوک عسکریت پسند ایف آئی آر زیر نمبر 81/2017زیر دفعات 363,376آر پی سی کے تحت سوپور پولیس کو مطلوب تھا۔ جھڑپ کے دوران ہلاک شدہ د عسکریت پسند لیاقت اور لشکر طیبہ سے وابستہ غنی خواجہ ساکنہ کرالہ گنڈ اور ماجد میر ساکنہ نو پور ہ سوپور نے ہی 8ستمبر 2018کے روز حریت ﴿گ﴾ کے کارکن حکیم الرحمن سلطانی ساکنہ بومئی سوپور کا قتل کیا اور اس سلسلے میں پولیس نے پہلے ہی ایف آئی آر زیر نمبر 70/2018زیر دفعات 307آر پی سی 7/25آرمز ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی سوپور میں مقدمہ درج کیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں