کانگریس نے پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ محفوظ رکھا پارٹی لیڈروں کے درمیان مشاورت جاری ، آج اعلان متوقع

سرینگر/ کے این این /ریاستی کانگریس کی ایک غیرمعمولی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا ،جسکی صدارت پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کی ۔میٹنگ میں جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی وسیکیورٹی صورتحال ،بلدیاتی وپنچایتی انتخابات ،دفعہ35اے ،ریاست میں نافذ گورنر راج اور دیگر کئی امورات پر تبادلہ خیال ہوا ۔دن بھر جاری رہنے والے اس اجلاس میں بلدیاتی وپنچایتی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور پارٹی کی جانب سے آج یعنی بدھ کو طلب کی گئی پریس کانفرنس میں اس کا اعلان متوقع ہے ۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے مجوزہ بلدیاتی وپنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے بعد ریاست میں کافی سرگرم مرکزی سیاسی جماعت پردیش کانگریس کمیٹی کی ریاستی شاخ کا ایک اہم اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ ریاستی کانگریس پارٹی کا یہ اجلاس پارٹی ہیڈکواٹر واقع مولانا آزادروڑ پر منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں غلام احمد میر کے علاوہ پارٹی کے سینئر لیڈران جن میں طارق حمید قرہ ،پیر زادہ محمد سعید ،غلام نبی مونگا ،تاج محی الدین ،محمد انور بٹ ،امرین بدر ،فاروق اندرابی ،سریندر سنگھ چنی اور دیگر اہم لیڈران وعہدیداراں نے شرکت کی ۔اس اجلاس میں مجوزہ بلدیاتی ،پنچایتی انتخابات ،جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال اور دیگر کئی امورات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس صبح11بجے شروع ہوا ،جو دن بھر جاری رہا ۔اس اجلاس میں تمام تر امورات کے علاوہ ریاست جموں وکشمیر کی دو بڑی علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی جانب سے مجوزہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ طویل ترین مشاورت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ پارٹی ہائی کمان جو بھی فیصلہ لے گی ،اس پر من وعن عمل کیا جائیگا ۔ذرائع نے بتایا کہ رات دیگر پارٹی کی ریاستی لیڈر شپ نے ہائی کمان سے بھی آئندہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتخابی عمل کا حصہ لینے یا نہ لینے پر غور وخوض کیا گیا جبکہ آرٹیکل35اے اور دفعہ370کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے کے معاملے اور اسکی وجہ سے ریاست میں پیدا شدہ خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ دن بھر جاری رہنے والے اس اجلاس میں آئندہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ،جس کا اعلان بدھ یعنی آج طلب کی گئی پریس کانفرنس میں کیا جائیگا ۔پارٹی صدرغلام احمد میر صبح ساڑھے11بجے پارٹی ہیڈ کواٹر واقع مولانا آزاد روڑ پر کانگریس کے فیصلے کا اعلان کریں گے ،کہ آیا کانگریس پارٹی بلدیاتی یا پنچایتی انتخابات میں حصہ لے گی یا نہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو بڑی علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریکٹ پارٹی﴿پی ڈی پی﴾ کی جانب سے پہلے ہی بلدیاتی وپنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔دونوں پارٹیوں نے ان انتخابات میں حصہ لینے کو 35اے معاملے سے مشروط کیا ۔ان دنوں پارٹیوں کا کہنا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت35اے کے معاملے پر اپنا موقف واضح نہیں کرتی ،تب وہ کسی بھی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گی ۔تاہم حیرت انگیز طور پر ں وکشمیر کے چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم نے کہا کہ ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات شیڈول کے مطابق منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کرانے کا فیصلہ رواں برس جولائی میں لیا گیا۔ چیف سکریٹری نے پیر کے روز یہاں منعقدہ عوامی دربار کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’انتخابات کرانے کا فیصلہ جولائی میں لیا گیا۔ بلدیاتی انتخابات کے ووٹر لسٹ اور ڈرافٹ شائع کئے جا چکے ہیں۔ فائنل بھی ہوچکا ہے۔ حلقوں کی از سر نو حد بندی اور ریزر ویشن کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔ چیف الیکٹورل افسر ﴿سی ای او﴾ چند دنوں کے اندر نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’انتخابات کی تاریخیں آپ کو پہلے ہی معلوم ہیں۔ 5 نومبر کے آس پاس پنچایتوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ سی ای او باضابطہ تاریخوں کا اعلان کریں گے۔ پہلے بلدیاتی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا‘۔ اس موقع پر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے مشیر کے وجے کمار بھی موجود تھے۔ مسٹر کمار نے انتخابات کے لئے کئے جانے والے سیکورٹی انتظات پر کہا ’یہ مجموعی پلان کا حصہ ہے۔ ضرورت کے حساب سے اس کا جائزہ لیا جارہا ہے‘۔مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کی پہلے ہی کال دے چکے ہیں۔ خیال رہے کہ گورنر کی صدارت میں 31 اگست کو ہوئی ریاستی کونسل کی میٹنگ میں ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو منظوری دی گئی ۔ ریاستی کونسل نے فیصلہ لیا کہ میونسپل اداروں کے انتخابات چار مرحلوں میں کرائے جائیں گے اور پولنگ کی تاریخیں یکم اکتوبر 2018ئ سے 5اکتوبر 2018 تک ہوں گی۔ اسی طرح پنچایتوں کے انتخابات 8مرحلوںمیں کرائے جائیں گے اور ان کی تاریخیں 8نومبر 2018ئ سے لے کر 4دسمبر 2018 تک ہوں گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں