نومبر کے اوائل میں کشمیر میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرائو  وزرات داخلہ کی گورنر انتظامیہ کو تلقین  بائیکاٹ کرنے والے پراکسی امیدوار کھڑا کریں گے : اعلیٰ آفیسر ان کا انکشاف

سرینگر/ الفا نیوز سروس /مرکزی وزرات داخلہ نے ریاست کی گورنر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ نومبر کے اوائل میں ہی ریاست جموںوکشمیر میں طے شدہ شیڈول کے مطابق شفاف اور غیر جانبدار بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کو یقینی بنائے جبکہ نئی دلی نے بائیکاٹ پر عمل پیرا مین اسٹریم جماعتوں کے فیصلے کی تنقید کی ہے، سینئر افسران نے انکشاف کیا ہے کہ بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں پراکسی امیدوار میدان/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں اتارنا چاہتی ہیں تاکہ وہ محفوظ بھی رہیں اور انتخابات میںجیت لیں ۔ اس بات کا انکشاف ہو اہے کہ مرکزی حکومت ریاست میںبلدیاتی اور پنچائتی چناو کسی بھی قیمت پر کرانے کیلئے بضد ہے اور ایک سینئر آفیسر کا کہنا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے براہ راست ریاست کی گورنر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ان انتخابات کو شفا ف اور غیر جانبدارانہ طور پر عمل میںلائیں کیونکہ مرکزی حکومت وزیراعظم نریندر مودی کے لال قلعے کی فصیل سے ان اعلان کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے جس میںانہوںنے کشمیر میں پنچائتی اور بلدیاتی چناو کرانے کااعلان کیا ہے اور اس کیلئے سابق گورنر نے بھی پندرہ اگست کے موقعے پر سرینگر میں اس اعلان کی تصدیق کی تھی ۔ چنانچہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت ریاست میں ان دو جماعتوں کے بائیکاٹ کو زیادہ تشہیر دینا نہیں چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ ان جماعتوں کے بغیر ہی غیر سیاسی بنیادوںپر بھی یہ چناو کرائے جائیں اور جو پارٹیاں تیار ہیں وہ ان انتخابات میںحصہ لے کر اس عمل کو کامیاب کریں کیونکہ کئی برسوں سے یہ انتخابات عمل میں نہیں لائے گئے جس کی وجہ سے یہاں نچلی سطح پر اختیارات تفویض نہیں ہو رہے ہیںاور نہ ہی ریاست میں رقومات مرکز کی جانب سے فراہم کی جارہی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نئی دلی میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے گزشتہ دنوں ایک میٹنگ بھی ہوئی جس میں انتخابات کو لیکر کشمیر میں دو اہم جماعتوں کے بائیکاٹ پر بھی بحث کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چاہئے کوئی بائیکاٹ کرے یا نہ کرے ہمیں جموںوکشمیر میں انتخابات کو یقینی بنانا ہے تاکہ جمہوریت کو زندہ رکھا جا سکے ۔ ایسے میںنئی دلی میںایک اعلیٰ سرکاری آفیسر نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ہیں کہ کشمیر میں جن جماعتوںنے بائیکاٹ کی کال دی ہے وہ پراکسی امیدوار بھی کھڑا کر سکتی ہیں اور ایسے میں وہ ان کا تحفظ بھی یقینی بنا سکتی ہیں وہیں وہ اپنے مقاصد کو بھی کامیاب بنا سکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وہ جماعتیں پراکسی امیدواروں کی حمایت کر سکتی ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں