ترکی میں بغاوت کا اندیشہ، درجنوں گرفتار

استنبول﴿رائٹر﴾ ترک حکام نے امریکہ میں مقیم مذہبی عالم فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستگی کے الزامات میں پیر کے روز 51فوجی اہلکاروں اور 9دیگر لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ اطلاع استنبول پولس نے کل دی ہے ۔ پولس نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں 9صوبوں سے کی گئی ہیں اور یہ افراد ان 89مشتبہ ملزمان میں سے ہیں، جن کی گرفتاری حکم استنبول پراسکیوٹر نے اپنی تحقیقات کے بعد دیا تھا۔ واضح رہے کہ ترکی اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن کو صدر رجب طیب اردوگان کی حکومت کے خلاف 2016کی ناکام بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے ، جس میں 250لوگوں کی موت ہوگئی تھی ۔جولائی 2016سے اب تک ترک حکام بغاوت مشتبہ ملزمان اور حامیوں کے خلاف مسلسل کارروائی کررہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے دفتر نے مارچ میں اپنی رپورٹ کہا تھا کہ اس کارروائی میں اب تک ایک لاکھ 60ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے ، اتنی ہی تعداد میں سرکاری ملازمین کو معطل کیا گیا ہے ۔تاہم، مولوی فتح اللہ گولن نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ دریں اثنائ، روزنامہ اخبار ’حریت‘نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انقرہ کے پراسکیوٹر نے علاحدہ طورپر میجر سطح کے 13سینئر افسران کے خلاف وارنٹ جاری کئے ہیں، جن میں 3افسران فی الحال ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں