بائیں بازو کی جماعتوں نے بھارت بند کاانعقاد کیا

نئی دہلی﴿یو این آئی﴾ بائیں بازو کی جماعتوں نے پٹرول اور ڈیزل کی روز بروز بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج میں کل ملک گیر بھارت بند کا انعقاد کیا اور احتجاج کر کے چکا جام کیا۔راجدھانی دہلی کے علاوہ بہار، اترپردیش، پنجاب، مغربی بنگال، اڈیشہ، تریپورہ، آندھرا پردیش وغیرہ بائیں بازو کی جماعتوں نے جگہ جگہ ریلیاں نکالیں اور گرفتاریاں بھی دیں۔دہلی میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی، بھارتی کمیونسٹ پارٹی اور اس سے جڑے محنت کش اور کسانوں کی تنظیموں کو لوگوں نے جنتر۔منتر پر احتجاج کیا۔ سی پی آئی﴿ایم﴾ کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، ڈی راجا، اتل کمار انجان، امرجیت کور سمیت کئی لیڈروں نے جنتر منتر پر احتجاج کیا اور کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔ صبح سے ہی بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہو کر مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے تھے ۔ غور طلب ہے کہ بائیں بازو نے کانگریس کے بھارت بند سے خود کو الگ رکھا اور رام لیلی میدان میں 21سیاسی جماعتوں کی عوامی ریلی میں بھی حصہ نہیں لیا۔ جہاں کانگریس صدر راہل گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار، سینئر سیاسی لیڈر شرد یادو، جے پرکاش یادو وغیرہ نہیں بھی شرکت کی۔ بائیں بازو کے احتجاجی مظاہرہ میں عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے بھی حصہ لیا۔ وہ بھی کانگریس کے بھارت بند کے ساتھ نہیں تھے اور اس لئے رام لیلی میدان کی ریلی میں شریک نہیں ہوئے ۔ مسٹر یچوری نے کہا کہ اس ظالم مودی حکومت کے ذریعہ ُپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے ۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ ملک کے سبھی پٹرول پمپ پر مودی کے فوٹو لگے ہوئے ہیں حکومت نے اپنی تشہیر کے لئے اشتہارات پر 4343کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں جو عوام کا پیسہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عام شہریوں پر کمر توڑ بوجھ نہیں ڈال سکتی، انہوں نے کہا کہ نہ تو مودی اور نہ ہی ان کے کسی وزیر کو عوام کی فکر ہے اور نہ ہی وہ عوام کو کسی بھی قسم کی راحت دینا چاہتے ہیں۔صرف جملے بای،نعرے بازی اور عوامی رابطے سے یہ حکومت چل رہی ہے ۔ سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ لوگوں کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں ۔روپیہ کی قیمت لگاتار گرتی جارہی ہے ، مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو برا حال ہے ، بینکوں میں غیر کار آمد اثاثے بڑھ رہے ہیں۔ مودی حکومت صرف اشتہارات اور جھوٹے پرچاروں پر ٹکی ہوئی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں