شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ وادی کو کتنی بجلی ملے گی؟

شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ پر ریاست جموںکشمیر اور پنجاب کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کی بدولت اس ریاست کو بیس فی صد بجلی ملے گی اور آبپاشی سہولیات بھی دستیاب ہونگی۔ اس بارے میں جو تفصیلات معلوم ہوئی ہیں ان کے مطابق شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ دریاے راوی پر قایم کیاجائے گا اور آبپاشی کے اعتبار سے سب سے بڑا پروجیکٹ ہوگا اور جس سے دونوں ریاستوں کو فایدہ مل سکتا ہے۔ کیونکہ سرکاری ذرایع کے مطابق ایک تو بجلی مہیا ہوگی اور دوسری بات یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے پر اَسی ہزار ہیکٹیر اراضی کو آبپاشی کی سہولیات حاصل ہوسکتی ہیں۔ سرکاری ترجمان کے مطابق جموں کشمیر دریاے راوی سے 0.69ایم اے ایف پانی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس میں سے ریاست اس وقت صرف 0.215ایم اے ایف پانی ہی بروئے کار لارہی ہے۔ راوی کنال کا 79.5کلو میٹر کا حصہ تعمیر کیاگیا ہے۔ جبکہ جموں کشمیر میں 493کلو میٹر تقسیم کاری نیٹ ورک مکمل کیا جاچکا ہے۔ تاہم شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ میں سست روی اور تھین ڈیم سے جڑے کئی تنازعات کی وجہ سے کشمیر دریائے راوی سے اتنا پانی حاصل نہیں کر پاتا ہے جس کی یہ اہلیت رکھتا ہے۔ اب شاہ پور پروجیکٹ کی بدولت اس کا سب سے بڑا فایدہ کٹھوعہ اور سانبہ کے کسانوں کو ملے گا۔ سرکاری ذرایع کے مطابق ریاست جموں کشمیر کو اس پروجیکٹ سے 41ایم ڈبلیو بجلی ملے گی جبکہ تھین ڈیم سے اس ریاست کو 20فی صد بجلی ملے گی۔ پروجیکٹ تین برسوں میں مکمل کیاجائے گا اور اس ریاست کو سال 2020کے آخر تک پانی ملنا شروع ہوجائے گا۔ شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سے اگر واقعی اس ریاست کو پانی اور بجلی ملے گی تو یہ اچھی بات ہے لیکن جب اس پروجیکٹ کا بغور جائیزہ لیا جاتا ہے تو ایسا معلوم پڑتا ہے کہ اس پروجیکٹ سے صوبہ جموں مستفید ہوگا اور سب سے زیادہ فایدہ کٹھوعہ اور سانبہ کے کسانوں کو ملے گا۔ بجلی بھی جموں کے حصے میں آئے گی جبکہ اس بات کی کوئی امید نہیں کہ کشمیر کو بھی کچھ ملے گا یانہیں۔ کیونکہ وادی کے لوگوں نے ماضی میں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ جب بھی کوئی بجلی پروجیکٹ زیر تعمیر تھا تو کشمیری عوام کو اس حوالے سے سبز باغ دکھائے گئے لیکن جب ان پروجیکٹوں کے مکمل ہونے کے بعد بجلی کی ترسیل شروع ہوگئی تو ساری کی ساری بجلی شمالی گرڈ کو فراہم کی گئی۔ اوڑی پروجیکٹ، سلال، بغلیار پروجیکٹ جب تک زیر تعمیر تھے تو وادی کے لوگوں کو اس بات کا بار بار یقین دلایا جاتا رہا کہ ان کو ان پروجیکٹوں کے مکمل ہونے کے بعد اپنے حصے کی بھر پور بجلی فراہم کی جائے گی لیکن بعد میں یہ یقین دہانیاں سراب ثابت ہوگئیں۔ اب شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کے بارے میں بھی اسی طرح کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے کہ کشمیر کی سرزمین پر جو بھی پروجیکٹ اب تک بنائے گئے ان سے وادی کو اس کا بھر پور حصہ نہیں دیا گیا بلکہ ساری کی ساری بجلی شمالی گرڈ کو فراہم کی گئی۔ وادی کو برائے نام بجلی دی گئی۔ اب متذکرہ بالا پروجیکٹ کی تعمیر کے بعد بجلی اور پانی کی فراہمی کے جو دعوے کئے جارہے ہیں لیکن اس پروجیکٹ کا فایدہ صرف جموں کو مل سکتا ہے جیسا کہ اب تک اندازہ لگایا گیا ہے اب آگے کیا ہوگا یہ معلوم نہیں ہوسکتا ہے اسلئے دیکھنا یہ ہے کہ اس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی بجلی اور پانی کی کتنی مقدار وادی کو فراہم کی جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں