نیشنل کانفرنس کی طرف سے پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیوں؟

ریاستی حکومت نے اس سال اکتوبر نومبر میں بلدیاتی اور پنچائیتی انتخابات کروانے کااعلان تو کیا لیکن اس ریاست کی پرانی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ان انتخابات کو دفعہ 35Aکو مکمل تحفظ دینے کی شرط سے مشروط کرکے کہا کہ جب تک حکومت ہند اس بات کی ضمانت نہیں دے گی کہ دفعہ 35Aکو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور اسکے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی تب تک نیشنل کانفرنس بلدیاتی اور پنچائیتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ جیسا کہ قارئین کرام کو اس بات کی جانکاری پہلے ہی دی گئی ہے کہ مذکورہ دفعہ کشمیر اور کشمیریت کی بنیاد ہے اور اگر اسے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی تو کشمیر یت کانام و نشان تک مٹ جائے گا یہ کشمیر کی ہر سیاسی پارٹی کا موقف ہے اور اس پر کسی بھی قسم کے اختلاف رائے کی گنجایش نہیں۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنے سیاسی مفادات اور فواید کو بالائے طاق رکھ کر اس آرٹیکل کے تحفظ کے مطالبے کے حق میں مشترکہ لائیحہ عمل اختیار کرنا چاہئے نہ کر بھانت بھانت کی بولیاں بول کر لوگوں کو انتشار میں ڈالا جانا چاہئے سیاسی مصلحتوں کو بھی اس کی راہ میں آڑے آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ گذشتہ دنوں نیشنل کانفرنس کے کور گروپ اجلاس میں اس حوالے سے کئی قرار دادیں پاس کی گئیں جن کی تفصیلات ڈاکٹرفاروق نے ایک پر یس کانفرنس میں بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے اس بات کونظر انداز کیا جارہا ہے کہ اس شق کو مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد آئین میں شامل کیا گیا اور سال 1952کے دہلی ایگریمنٹ کا حصہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اس کو ریاست کی آئین ساز اسمبلی نے دفعہ 370کے تحت منظور کیا تھا نیشنل کانفرنس نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈویل کے اس ریمارک جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست کا الگ آئین ایک بھول اور غیر ضروری قدم قرار دیا جاسکتا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کا الگ آئین بھول اور غیر ضروری قدم قرار دیاجاسکتا ہے تو پھر ریاست اور مرکز کے درمیان طے شدہ دستاویز الحاق بھی ایک بھول اور غیر ضروری قدم قرار دیا جاسکتا ہے تو اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اجیت ڈویل کی طرف سے دئے گئے بیان سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ آئین اور اس کی مختلف شقوں کے بارے میں مرکزی حکومت کی پالیساں اور پروگرام کس نوعیت کے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ فٹ پاتھ والے سے لے کر ریڈی والا اور رکھشا ڈرائیور بھی اس آٹیکل کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور اس کو ہٹانے کیلئے عدلیہ کا رخ کررہے ہیں ان حالات کو بھانپتے ہوئے کشمیر میں ہر سیاسی جماعت کو مشترکہ لائیحہ عمل اختیار کرنا چاہئے جیسا کہ سول سوسائیٹی کی طرف سے اس بارے میں بار بار یہ بیان سامنے آرہا ہے کہ آرٹیکل 35Aکسی بھی سیاسی جماعت کا اس کا علیحدہ مسئلہ یا مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ سب کشمیری عوام کا مشترکہ مسئلہ اور مطالبہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہئے اسلئے ہر سیاسی پارٹی کو اس بارے میں سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر جدو جہد کا حصہ بننا چاہئے۔ تاکہ کشمیری عوام کی صحیح معنوں میں نمایندگی کی جاسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں