حکومت پاکستان اور فوج دونوں بھارت کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار عمران خان کی دوستی کی پیش کش بھارت کیلئے سنہرا موقعہ ،یکطرفہ سرحد بھی کھولنے کا کیا اعلان

اسلام آباد/پنجاب میںسکھ زائرین کیلئے یکطرفہ طورسرحد کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان نے کہاکہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں بھارت کیساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں لیکن ابھی تک بھارت کی جانب سے کوئی مثبت اشارہ نہیں مل رہا ہے حالانکہ ملک کے وزیراعظم نے بھی اپنے پہلے ہی خطاب میں بھارت کو اس ضمن میںپیش کش بھی کی ہے ۔ ا پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت بھارت کیساتھ مسائل کو حل کرنے کیلئے تیار اور بات چیت کیلئے کوئی بھی قدم بڑھانے کیلئے تیار ہے تاہم بھارت کی جانب سے کسی بھی طرح کا مثبت رجحان دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔انہوںنے مزید کہا ہم تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے حق میں ہیں اور ایسے میں ہم دیگر معاملات کو بھی حل کرنے کیلئے تیار ہے لیکن یہ سب مذاکرات کی بحالی سے ہی ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ ملک کے وزیراعظم ذاتی طور پر بھارت کیساتھ تمام حل طلب مسائل کو حل کرنے کیلئے تیار ہیں اور اپنے خطاب میںانہوںنے پہلے ہی بھارت کو یہ واضح اشارے دیئے ہیں کہ اگر وہ آگے آنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان کو ایک نہیں بلکہ دو قدم پر پائیگا ۔انہوںنے مزید کہا کہ نئی دلی کو کئی بار اشار ے دیئے گئے ہیںکہ مذاکرات کی بحالی کو یقینی بناو لیکن بھارت اس ضمن میں کوئی بھی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھانے کو تیار ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے اس ضمن میں وزیراعظم ہند نریند ر مودی کیساتھ بھی بات چیت کی ہے اور انہیں بھی اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے ۔ تاہم اب ہمیں بھارت کے جواب کا انتظار ہے کہ وہ کس طرح سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ اب کے ملک کی سویلین حکومت ہی نہیں بلکہ فوج بھی بھارت کیساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے اور اس ضمن میں فوج نے بھی کھل کر کہہ دیا ہے کہ انہیں ہندوپاک مذاکرات کی بحالی میںحمایت دینے کا کوئی اعتراض نہیں ہے لہذا اگر فوج اور سویلین حکومتیں ہم آہنگی کیساتھ بھارت کیساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہاں ہے تو بھارت کو اس موقعے کو غنیمت سمجھ کر اس کو قبول کرنا چاہئے اور مذاکرات کی بحالی کا اعلان کرنا چاہئے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے کہاکہ پاکستان کو بھارت کے جواب کا انتظار ہے ساتھ ہی انہوںنے اعلان کیا کہ پاکستان کے یکطرفہ طور پر سکھ زائرین کیلئے کرتار سنگھ سرحد کو کھولنے کا فیصلہ لیا ہے اور بہت جلد یہ فیصلہ حقیقت بن جائیگا جس کے بعد بھارتی پنجاب کے سکھ زائرین آسانی کیساتھ پاکستانی حدود میں بنائ ویزا کے داخل ہونگے تاک وہ دربار صاحب کرتار سنگھ کی زیارت کر سکیں انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میںایک نظام قائم کیا گیا ہے جس کے تحت یہ سکھ زائرین آرپار آجا سکیں گے ۔
وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات چیت کرنے کی خواہشمند ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اورفوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات چیت کرنے کی خواہشمند ہیں اوروزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی حکومت کو اس کے کئی اشارے بھی دیے جا چکے ہیں، انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی بھارتی کھلاڑیوں کو دعوت دی۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ نئی دہلی ایک قدم بڑھائے تو ہم دو بڑھائیں گے۔ انھوں نے بھارت کے وزیراعظم سے بات چیت بھی کی لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب نہیں ملا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ نریندرا مودی نے جس طرح پاکستان مخالفت پراپنی انتخابی مہم چلائی ہے اب بی جے پی اس سوچ میں پھنسی ہوئی ہے کہ کہیں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے ان کے ووٹرزپرکوئی فرق نہ پڑ جائے۔الفا نیوز سروس کے مطابق فواد چوہدری نے کہا کہ موجود حکومت کی خارجہ پالیسی نوازشریف کی طرح نہیں، یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔اس میں تمام ادارے ایک صفحے اور ایک سوچ پرجمع ہیں۔ الفانیو ز سروس کے مطابق ماضی میں امریکا اور مغرب کو یہ شکایت تھی کہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت الگ الگ باتیں کرتی ہے لیکن اب یہ شکایت دورہوگئی ہے، ہم اداروں کے ساتھ ہیں اورادارے ہمارے ساتھ ہیںوزیراعظم عمران خان نے بھارت کوتعلقات میں بہتری کے جواشارے دیے ہیں اسے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ ایک ملک اکیلا ترقی نہیں کرتا بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں اوروہ دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ اگرخطے میں مکمل امن نہیں ہوگا تو سب ہی پیچھے رہ جائیں گے۔افغانستان میں امن کے حوالے سے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی بھی دوسرے وزیراعظم کی نسبت افغانستان اورپشتون کلچر کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی کافی مدد گارہوسکتی ہے۔ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے اوراب امریکا میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے۔ جو مفید ثابت ہوگی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں