میڈکلیم انشورنس پالیسی ۔۔۔ قواعد و ضوابط آسان بنانے کی ضرورت

ریاستی انتظامی کونسل کے ایک خصوصی فیصلے کے تحت سرکاری ملازمین کیلئے اب گروپ میڈکلیم انشورنس پالیسی شروع کردی گئی ہے جس کے تحت نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ پینشنرز بھی اس سکیم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو احکامات صادر کئے گئے ان میں بتایا گیا کہ پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس، خود مختار ادارے، اور یونیورسٹیوں کیلئے اس سیکم کی عمل آوری لازمی قرار ہوگی جبکہ پنشنرز، اے آئی ایس افسرس، ایڈہاک ،کنٹریکچول ،ڈی آر ڈبلیو، ورک چارجڈاور کنٹنجنٹ پیڈ ورکروں اور ان کے افراد خانہ کیلئے اوپشنل بنیادوں پر اس سیکم کی عمل آوری اس سال یکم اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ ایک سال تک جاری رہنے والی اس پالیسی کو تین برسوں تک سالانہ بنیادوں پر توسیع دی جائے گی۔ حکمنامے میں مزید بتایا گیا کہ انفرادی سطح پر ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس کور چھ لاکھ روپے کا ہوگا جبکہ افراد خانہ کیلئے یہ انشورنس پانچ لاکھ کا ہوگا اور اس میں دس کروڑ روپے کا کارپوریٹ بفر ہوگا۔ ملازمین کو سالانہ 8776.84روپے کا سالانہ پریمیم ادا کرنا ہوگا۔ اور اس میں 3600روپے میڈیکل الاونس کاٹے جائیینگے جو 5176.84کے برابر ہوگا۔ اسی طرح پینشنروں کیلئے یہ رقم سالانہ 22228روپے ہوگی جس میں سے میڈیکل الاونس 3600روپے میڈیکل الاونس کاٹے جاینگے جو سالانہ 18628روپے کے برابر ہوں گے۔ اس کے علاوہ سالانہ پریمیم ملازمین کی تنخواہوں سے چار قسطوں میں کاٹے جاینگے اس مقصد کیلئے محکمہ خزانہ الگ سے نوٹفیکیشن جاری کرے گا۔ خواتین کیلئے میٹرنٹی خرچے کی حد ریاست میں تیس ہزار جبکہ ریاست سے باہر ستر ہزار روپے تک بڑھادی گئی ہے۔ سرکاری طور پر اسے ملازمین کیلئے فایدہ مندپالیسی سے تعبیر کیاگیا لیکن سرکاری ملازمین نے ابھی تک اس پر کوئی ایسا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ آیا واقعی یہ ملازمین اور پینشنروں کیلئے فایدہ مند ہے یانہیں۔ اس سلسلے میں آفتاب نے جب مختلف ٹریڈ یونین لیڈروں سے رابط قائم کرکے انہیں اس پالیسی پر تبصرہ کرنے کیلئے کہا تو سب نے ایک ہی بات بتائی کہ اس سے قبل متعدد مرتبہ ریاستی حکومت نے ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس پالیسی کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں ان سکیموں کا کیا حشر ہوا یہ سب کو معلوم ہے اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت اس سیکم کو سنجیدگی سے لاگو کرنا چاہتی ہے تو اس کیلئے قواعد و ضوابط کو آسان بنا یا جانا چاہئے۔ ان ٹریڈ یونین لیڈروں کے اس طرح کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں اب بھی اس بات کا یقین نہیں کہ واقعی اس گروپ انشورنس میڈکلیم پالیسی کو لاگو کیاجائے گا یا نہیں کیونکہ ان ٹریڈ یونین لیڈروں کو ماضی میں اس طرح کے اعلانات کا تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔ اسلئے گورنر انتظامیہ کو چاہئے کہ ایک تو اس سیکم کو لاگو کرنے کیلئے آسان شرائط طے کئے جائیں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ پریمیم میں کمی کی جائے تاکہ ملازمین، پینشنروں کو زیادہ سے زیادہ راحت مل سکے۔ ٹریڈ یونین لیڈروں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ریاستی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے اور زیادہ آسان بنایا جانا چاہئے جبکہ خواتین ملازمین کیلئے میٹر نٹی اخراجات ریاست میں تیس ہزار سے بڑھاکر پچاس ہزار اور بیرون ریاست ستر ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کردئے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے اقدامات اٹھائے جاینگے تو اس سے ملازمین کو واقعی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں