ریاستی انتظامی کونسل کا فیصلہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت

ریاستی انتظامی کونسل جس کے فیصلے کابینہ فیصلوں کا درجہ رکھتے ہیں نے گذشتہ دنوں ایک اہم فیصلے میں اس بات کااعلان کیا کہ مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت بے قاعدگی سے اسامیاں معرض وجود میں لانے پر اب پابندی عاید رہے گی۔ اس فیصلے کی رو سے مرکز کی جو بھی سکیم ہوگی اس پر اب اس وقت تک کوئی بھی تقرری عمل میں نہیں لائی جائے گی جب تک محکمہ فائنانس کی طرف سے اس بارے میں کلیئرنس نہیں دی جائے گی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری فائینانس نوین کمار چودھری نے ایک حکمنامے میں کہا کہ فائینانس ڈیپارٹمنٹ کا مجاز حکام کی اجازت کے بغیر مرکزی معاونت والی کسی بھی سکیم کے تحت کوئی بھی اسامی معرض وجود میں نہیں لائی جائے گی۔ اس حکمنامے میں کہا گیا کہ گورنمنٹ بزنس رولز میں واضح کیاگیا ہے کہ سرکار کے وہ تمام منصوبے جن میں مالی عمل دخل ہو کو مجاذحکام کی منظوری ملنے سے پہلے فاینانس ڈیپارٹمنٹ سے منظور کرایا جانا چاہئے۔ حکمنامے کے مطابق کسی بھی مرکزی معاونت والی سکیم میں عارضی بنیاد پر تعینات کئے جانے والے عملے کو مشاہرہ ادا کرنے کیلئے اگر مرکزی حکومت رقومات فراہم کرنے کی وعدہ بند ہو تو ایسے افراد کو فاینانس محکمے کی پیشگی منظوری کے بعد ہی تعینات کیاجانا چاہئے۔ آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت تعینات کرنے والے افراد کے کام کی معیادوضع کریں گے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ایسے افراد کی تقرری کے تعلق سے یہ بات بھی واضح کی جانی چاہئے کہ اس سلسلے میں ان کی خدمات کو جاری سیکم کے بند ہونے پر ان کو باقاعدہ بنانے کیلئے ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں عہد بند نہیں ہوگی۔ اس آرڈر سے ایسا لگتا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس سب سے اپنا دامن چھڑالیا ہے کیونکہ مرکزی معاونت والی بہت سی سیکمیں یہاں رائج ہیں اور ان پر کام کرنے والے نوجوان چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں ریاستی حکومت پر دبائو بنائے رکھتی ہیں کہ ان کی نوکریوں کو مستقل کیاجائے۔ مثلاًآنگن واڑی سکیم سے وابستہ ہزاروں ورکروں اور ہیلپر وں نے تقریباًتین مہینے تک احتجاجی مظاہرے کئے۔ دھرنے دئے نعرے لگائے۔ یہ ورکر ان کی نوکریوں کو مستقل اور ان کا مشاہرہ بڑھانے کا مطالبہ کررہی تھیں لیکن اتنا کچھ ہونے کے باوجود ان کو کسی قسم کی راحت نہیںدی گئی۔ اسی طرح دوسرے محکموں میں سیاسی بنیادوں پر جن نوجوانون کو تعینات کیا گیا ان کو بھی باقاعدگی سے تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں اور وہ بھی روز روز احتجاج کررہے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی معاونت والی جو سکیمیں یہاں رائج ہیں یا تھیں ان میں جن افراد کو ایڈ جسٹ کیا گیا ان کو اس وقت یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ عارضی سکیمیں ہیں اور کسی بھی وقت بند ہوسکتی ہیں اور ان پر تعینات افراد کو مستقل نہیں کیاجاسکتا ہے۔ لیکن اب ریاستی انتظامی کونسل نے جو سر کیولر جاری کیا اس میں اس سارے معاملے کی وضاحت کی گئی۔ لیکن اب ریاستی حکومت کو چاہئے کہ اس وقت مرکزی معاونت والی سکیموں پر جو افراد کام کررہے ہیں کم از کم ان کو مانگوں کو تو پورا کیا جائے۔ کیونکہ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جوعمر کی اس حد کو پار کرگئے ہیں جو حصول نوکری کیلئے مخصوص رکھی گئی ہے اسلئے ریاستی حکومت کو ان کے معاملے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے ان کو راحت دینی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں