امتیازی سلوک کیوں؟

سرینگرنام ہے ایک ایسے شہر کا جسے ہر دور حکومت نے نظر انداز کیا ہے اور جس میں رہنے والے شہریوں کے حقوق ہمیشہ سلب کئے گئے۔ جہاں تک تعمیر وترقی کا تعلق ہے تو اس معاملے میں اس شہر ناشاد کے ساتھ ہمیشہ امتیاز برتا گیا ۔ اگرچہ جموں کو بھرپور انداز میں اس کا حصہ ادا کیاگیا لیکن سرینگر شہر کا جہاں تک تعلق ہے تو ترقیاتی کاموں میں اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک کیاگیا۔ کسی بھی ریاست کا دارالحکومت اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ لوگ اس کی خوبصورتی میں کھو جاتے ہیں۔ جب دوسری ریاستوں کے دارالخلافائی شہروں کا حال دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان شہروں میں تعمیر و ترقی کا یہ حال ہوتا ہے کہ دور سے ہی ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس شہر کی طرف بھر پور توجہ دیتی ہوگی جبکہ اس کے مقابلے میں سرینگر کا حال دیکھا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی دوردراز دیہات کا نظارہ کرتے ہیں۔ جہاں تک شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں کا تعلق ہے تو ان کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ ان پر چلنا دشوار ہوتا ہے ۔ معمولی بارشوں سے سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ہر ایک سڑک کا حال ایسا ہی ہے۔ لوگ سڑکوں پر چلنے کیلئے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں سڑکوں کی تعمیر و تجدید کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس سارے معاملے میں سیاست کی جاتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا توآج سڑکوں کا یہ حال نہ ہوتا جو آج کل دیکھنے کوملتا ہے۔ گلی کوچوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ کوئی بھی گلی اور کوچہ اس کی اصل حالت میں نہیں ہے ۔اس سب کیلئے ذمہ دار محکمے اپنے فرائض کی انجام دہی میں حد سے زیادہ غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔اگر شہر سے باہر کی سڑکوں کاحال دیکھا جائے گا تو مقابلتاًبہتر ہیں روڈس اینڈ بلڈنگس کا محکمہ ہو یا سٹی ڈرینیج کا شعبہ ہو۔ میونسپلٹی ہو یا کوئی دوسرا ڈیپارٹمنٹ جب ان کی مجموعی کارکردگی کا جائیزہ لیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ان محکموں سے وابستہ حکام صرف موٹی موٹی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں۔ یہاں سرینگر ڈیولپمنٹ نام کا ایک ادارہ ہے تعجب اس بات کا ہے کہ اس ادارے وابستہ حکام کو اس بات کا کوئی اداراک نہیں ہے کہ ان کے ذمہ کیاکام ہے اور انہیں کیاکرنا ہے۔ اب بھی شہر سرینگر کے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس محکمے کے ذمہ کون کون سے کام ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں