وزیر دفاع فوجی سربراہ کے ہمراہ سرینگرمیں گورنر کے ساتھ ملاقات میں اہم دفاعی معاملات پر تبادلہ خیال سرحدی علاقوں کا دورہ بھی کیا

سرینگر/ مرکزی وزیر دِفاع نرملا سیتا رمن نے کل یہاں راج بھون میں گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقات کی ۔بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوَت بھی اُن کے ہمراہ تھے۔راج بھون پہنچنے پر گورنر نے وزیر دِفاع کا استقبال کیا۔ وزیر دِفاع نے ریاست جموں وکشمیر کا گورنر مقرر کئے جانے پر ستیہ پال ملک کو مبارک باد دی۔گورنر اور مرکزی وزیر دِفاع نے ریاست کی اندرونی اور بیرونی سلامتی صورتحال سے جُڑے کئی معاملات کے علاوہ دراندازی کے بڑھتے واقعات اور ملی ٹنسی مخالف/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اوپریشنز کے معاملات پر بھی تبادلہ خیالا ت کیا۔گورنر اور مرکزی وزیر دِفاع نے ریاست میں اس برس اکتوبر ۔ دسمبر کے مہینوں میں ہونے والے بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کے اِنتخابات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گورنر نے ریاست اِنتظامیہ، ریاستی پولیس اور سینٹر ل آرمڈ فورسز کے ساتھ مکمل تال میل قائم کر کے لوگوں کی سلامتی کے لئے کام کرنے پر فوج کے شمالی کمان کی سراہنا کی۔انہوں نے اتوار کو سرحدی علاقوں کا دورہ کرکے وہاں فوجی افسروں سے ملاقات کی اور سرحدوں پر سیکورٹی صورتحال کا جائیزہ لیا۔ دورے کے دوران لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی طرف سے بار بار نا جنگ معاہدے کی خلاف وزریوں دراندازی کے واقعات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے نرملا سیتا رامن نے کہا کہ سرحد پار سے کی جارہی دراندازی کا معاملے کا جواب دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان و چین اور بنگلہ دیش سے بار بار دراندازی کے واقعات رونما ہورہے ہیں جبکہ اسی طرح کی صورتحال ملک کی اندرونی سلامتی صورتحال کیلئے تشویشناک ہے ۔دراندازی کے واقعات کی روکتھام کیلئے کئی ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دراندازی جیسے واقعات ہمیشہ ملک کی اندرونی سلامتی کیلئے خطرہ ہے جبکہ اس کے مدنظر مرکزی حکومت وہ سارے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہے جو اس کیلئے ضروری ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ کئی ایسی سرحدی جگہیں بھی ہیں جہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہیں جہاں تار بندی اب تک نہیں کی گئی ہے لیکن اس بات کے اقدامات کئے جائیں گے کہ ان مقامات پر بھی تاربندی کی جائے اور دراندازی کی مکمل روکتھام کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی ترجیح یہ ہے کہ ملک کی سرحدیں محفوظ رہیں اور ملک کی اندرونی سلامتی بھی ہر قیمت پر برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ دراندازی کا سب سے زیادہ خطرہ ہمیشہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے رہتا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر تاربندی کا کام پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے اور اگر اس میں کوئی کوتاہی رہی ہے تو اس کو دور کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ لگنے والی سرحدوں سے ملک کی سیکورٹی کو لگاتار خطرے پیدا کئے جارہے ہیں لیکن ان خطروں سے نمٹنے کیلئے موثر اور منظم اقدامات کئے جائین گے ۔بنگلہ دیش سے دراندازی کرکے بھارت میں داخل ہونے والے غیر قانونی شہریوں کے ملک میں رہائش پذیر ہونے کے بارے انہوں نے کہا کہ ایسے شہریوں کو ملک میں رہنے نہیں دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں کی پہچان کیلئے محض شناختی کارڈ فراہم کئے جارہے ہیں اور کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی کو یقینی بنائے رکھنے کیلئے مرکزی حکومت پُر اعظم ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں