کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد لوگ فکر و تشویش میں مبتلا

شہر میں کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عام لوگوں کیلئے تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ اوران پر قابو پانے کیلئے فوری اور موثر طریقہ کار عمل میں نہ لانے پر عوامی حلقوں میں فکر و تشویش اورزیادہ بڑھتی جارہی ہے۔ جیسا کہ قارئین اس بات سے واقف ہیں اور خود بھی ان کو بار بار اس بات کا تجربہ ہوچکا ہوگا کہ شام اور صبح کے وقت گھروں سے باہر نکلنا تقریباًتقریباًناممکن ہورہاہے۔کیونکہ ایسی کوئی سڑک گلی بازار چوراہا نہیں جہاں کتوں کی فوج نظر نہ آتی ہو جن سے زبردست ڈر لگا رہتا ہے۔ اب بہت کم تعداد میں لوگ صبح جو گنگ کیلئے نکلتے ہیں کیونکہ ان کو کتوں کا ڈر لگا رہتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان پر قابو پانے اور ان کی تعداد کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دن بدن ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ شاید وادی پورے بھارت میں ایسی واحد جگہ ہے جہاں زیادہ تعداد میں کتے موجود ہیں اور جہاں ان کی آبادی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ عدلیہ کے احکامات کے تحت جہاں کتوں کے مارنے پر پابندی عاید ہے لیکن ان کو مارے بغیر ان کی تعداد کم کرنے کیلئے سائینسی بنیادوں پر اقدامات تو کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بارے میں سنجیدہ غور و فکر نہیں کیا جارہا ہے۔ نتیجے کے طور پر ہر روز دس سے بیس افراد جن میں زیادہ تر بچے شامل ہوتے ہیں اور جن کو کتوں نے کاٹا ہوتا ہے کو صدر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ حال ہی میں منور آباد میں ایک شخص کو کتوں نے اس قدر کاٹا کہ ان کے چہرے پر بے شمار زخم آئے اور آج کل وہ صدر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ لوگ اب بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی ڈر رہے ہیں کیونکہ کتے زیادہ تر بچوں کو ہی اپنا شکار بناتے ہیں۔ جب اس بارے میں ہر طرف سے شور وغل بلند ہوا تو ڈپٹی کمشنر سرینگر نے اس معاملے پر ایک اعلی سطحی میٹنگ بلائی جہاں انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے سائینسی طریقے اپنائیں جن سے کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر روک لگائی جاسکے۔ اس موقعے پر میونسپلٹی کے کئی افسر بھی موجود تھے جنہوں نے کتوں کی تعداد کے بارے میں ڈپٹی کمشنر سرینگر کو اعداد و شمار پیش کئے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2011میں شہر سرینگر میں 90ہزار کتے موجود تھے جو سال 2014میں گھٹ کر صرف پچاس ہزار رہ گئے اور اب بقول ان کے اس وقت شہر میں صرف 22 ہزار کتے موجود ہیں۔ لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کتوں کی موجودہ تعداد کے بارے میں غلط اور بے بنیاد اعداد و شمار پیش کئے گئے جبکہ ایسا لگتا ہے کہ اسوقت شہر سرینگر میں کتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہوگی۔ کیونکہ جگہ جگہ کتے ہی کتے نظر آتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے سرینگر میں کتوں کی مردم شماری نہیں ہوئی ہے جب ان کی مردم شماری کی گئی تو اس وقت ان پر سرخ رنگ چھڑ کا گیا تھا لیکن اس عمل کو بھی کئی برس گذرگئے اسلئے کتوں کی اصل تعداد کے بارے میں اس وقت وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے۔ اسلئے ایسے سائینسی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں جن سے کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روک لگائی جاسکے اس بارے میں بغیر کسی مصلحت فوری کاروائی کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں