عوامی اضطراب بے جا نہیں

سوموار کی صبح سرینگر اور وادی کے کئی دیگر علاقوں میں افواہ پھیل گئی کہ سپریم کورٹ میں آج 35Aسے متعلق کیس کی شنوائی ہوئی ہے۔ اس افواہ کے پھیلتے ہی نہ صرف ہڑتال کی گئی بلکہ کئی علاقوں میں نوجوان پر تشدد مظاہرے کرنے لگے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر وہ تصویریں اور ویڈیو کلپس وائرل ہوگئیں، جن میں لوگوں کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا ۔بعدازاں پتہ چلا کہ دراصل عدالت عظمیٰ میں مفاد عامہ کی ایک اور عرضداشت پیش کی گئی ہے ، جس میں آئین ہند کی دفعہ 35Aکو ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس طرح سے اب تک سپریم کو رٹ میں ایک جیسی متعدد درخواستیں جمع ہوگئیں۔ 35Aکو ختم کرنے کے مطالبے کو لیکر سب سے پہلے 2014ئ میں آر ایس ایس کی پشت پناہی والی رضاکار تنظیم ’’وی دی سٹیزنز‘‘ نے عدالت عظمیٰ میں کیس دائر کیا۔ حالانکہ کورٹ میں اس کیس میں ریاست کے مفادات کا دفاع کرنا مرکزی سرکار کی ذمہ داری تھی ، بلکہ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کی جانب سے اگر اس کیس میں ایک بیان حلفی داخل کیا جاتا تو عدالت عظمیٰ ابتدائی مرحلے پر ہی اس کیس کو خارج کردیتی ۔ لیکن مودی سرکار نہ صرف کیس میں ریاست کا دفاع کرنے سے انکار کیا بلکہ عدالت کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر کھلی بحث ہوجانی چاہیے۔ یہی وہ وجوہات ہیں ، جس کی وجہ سے دفعہ 35Aکو واقعی خطرہ لاحق نظر آتا ہے۔محض ایک افواہ پھیلنے پر اس قدر شدید ردعمل دراصل اس عوامی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے کہ جو آئین ہند کی دفعہ 35Aکو لاحق خدشات کی وجہ سے وادی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ نہ ہی سیاسی ہے اور نہ مذہبی ۔ اس کا تعلق نہ ہی کسی مخصوص قوم کے ساتھ ہے اور نہ ہی ریاست کے کسی مخصوص علاقے سے ۔ بلکہ یہ مسئلہ اس ریاست کے تمام پشتنی باشندگان ، جن میں ہر مذہب اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، کے مستقبل کا معاملہ ہے۔اگر آئین ہند کی اس شق کو ختم کرنے کے ضمن میں عدالت عظمیٰ کا یک سطری فیصلہ بھی سامنے آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس ریاست کے پشتنی باشندگان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوگا۔ دفعہ 35Aختم ہوجانے کے بعد ہندو ستان بھر سے جو چاہیے اس ریاست میں مستقل سکونت اور باشندگی حقوق حاصل کرسکتا ہے۔ جو چاہے یہاں تجارتی اور صنعتی اداروں کو قائم کرنے کے لئے زمینیں اور جائدادیں خرید سکتا ہے۔اس ریاست میں اگر کسی سرکار دفتر میں ملازمتوں کی خالی اسامیاں پر کرنی ہوں ، تو ہندو ستان بھر کے اُمیدوار اپنی عرضیاں دے سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مراعات اور سکالرشپ کے حقدار غیر ریاستی باشندے بھی اسی طرح ہونگے ، جس طرح ریاست کے پشنتی باشندے ۔ریاست سے باہر کا جو بھی شخص یہاں مقیم ہوجائے گا اسے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا۔یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں دفعہ 35Aکے ختم ہوجانے کے محض چند برسوں کے اندر اندر اس ریاست کی ٰڈیمو گرافی مکمل طور تبدیل ہوکر رہے گی ۔یہاں غیر ریاستی باشندوں کی اس قدر بھر مار ہوگی کہ پشتنی باشندے خال خال ہی نظر آئیں گے۔ ہندو ستان بھر کے سرمایہ کاروں کو اس ریاست میں پہلی بار بڑی بڑی جائدادیں اور زمینیں خریدنے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔ فوج کی تحویل میں لاکھوںکنال اراضی قانوناً وزارت دفاع کو منتقل ہوجانے کی راہ ہموار ہوجائے گی ۔ غرض 70سال میں جو کچھ نہیں ہوا، وہ دفعہ 35A کے خاتمے کے نتیجے میں محض چند برسوں میں ہوسکتا ہے۔چونکہ گزشتہ 70سال کے دوران ریاست کے حقوق اور اختیارات غیر محسوس لیکن مسلسل طور پر چھینے جاتے رہے ہیں ، اسی لئے دفعہ 35Aکو لاحق خطرات کی وجہ سے ریاست بالخصوص وادی کے لوگ پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں محض ایک افواہ پھیلنے پر بھی سوموار کو نہ صرف بیشتر علاقوں میں ہڑتال ہوئی بلکہ کئی جگہوں پر پر تشدد مظاہرے بھی ہوئے ۔حقیقت یہ ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اس ریاست کے لوگ گزشتہ ستھر سال کے دوران بیشتر حقوق اور خود اختیاری کھوچکے ہیں۔ اگر 35Aکو ختم کیا گیا تو یہ اس ریاست کی خصوصی اور امتیازی حیثیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔اسلئے اس مسئلے پر پایا جانے والا عوامی اضطراب بے جا نہیں ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں