جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے عوامی اتحاد پارٹی کی احتجاجی ریلی پولس کا دھاوا،انجینئر رشید درجنوں حامیوں سمیت گرفتار

سری نگر/ عوامی اتحاد پارٹی نے جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور دفعہ 35Aکو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کی قیادت میںشیر کشمیر پارک سے نکالی گئی اس ریلی میں شریک ہوئے لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر جموں میں جنگل راج،وہاں کے مسلمانوں کو حراساں کئے جانے،سماجی کارکن طالب حسین کو ایک سازش کا شکار بنائے جانے،مرفد شاہ نامی نوجوان کے پر اسرار قتل کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے۔مظاہرین طالب حسین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور جموں کے مسلمانوں کے متعلق دیگر اہم معاملات کو لیکر زوردار نعرہ بازی کرتے ہوئے جارہے تھے تاہم پولس کی ایک بھاری جمعیت نے پرتاپ پارک کے قریب ریلی کو روک کر اسے لالچوک کی جانب بڑھنے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انجینئر رشید کو قریب دو درجن کارکنوں کے سمیت گرفتار کر لیا جن میں شیبان عشائی،پیرزادہ مشتاق احمد،طاہر میر،و دیگراں شامل ہیں۔تاہم گرفتاری سے قبل نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انجینئر رشید نے ریاستی انتظامیہ کو فرقہ پرستوں کے ہاتھوں کھیلنا بند نہ کرنے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا اور کہا کہ بصورت دیگر سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا’’حالانکہ عوامی اتحاد پارٹی مانتی ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیئے جو کہ مسئلہ کشمیر کے قابل قبول حل کی واحد صورت ہے تاہم دفعہ35Aکو سرسری نہیں لیا جا سکتا ہے۔
معتبر اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جموں کی کم از کم 16بستیوں میں گوجروں اور خانہ بدوشوں کو اپنے آبائی علاقے چھوڑ دینے کیلئے کہا جارہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جموں پولس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھول چکی ہے جبکہ اسے جوابدہ نہیں بنایا جارہا ہے‘‘۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ حالانکہ کشمیری عوام بھارت کے دشمن نہیں ہیں لیکن وہ اپنے آپ کی تذلیل برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی قربانیوں کو بھول کر نام نہاد اٹانومی کی بحالی کیلئے بھارت کے سامنے بھیک مانگ سکتے ہیں۔انہوں نے عوام سے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کی جانب سے مزاحمتی قیادت کیلئے حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سیاسی حقوق کے مطالبے اور قربانیوں کی ترجمانی کیلئے اس سے بہتر کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں ہے۔انجینئر رشید نے مذہبی راہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کے موقعہ پر جموں کے مسلمانوں کی صورتحال سے لوگوں کو واقف کرائیں ۔انہوں نے کہا کہ سماجی کارکن طالب حسین کو محض اس لئے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ جموں میں مسلمانوں کی ایک معتبر آواز کے بطور ابھررہے تھے اور انہوں نے کٹھوعہ کے شرمناک واقعہ کو بے نقاب کرنے اور مجرموں کو کٹہرے تک لے آںے میں بڑا رول نبھایا تھا۔انہوں نے کہا کہ طالب کے خلاف ایک گہری سازش ہوئی ہے لہٰذا اسکی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیئے جس سے نہ صرف انکو انصاف مل سکے بلکہ کٹھوعہ معاملے کو دبانے کی کوششیں بھٰن ناکام بنائی جا سکیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں